30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خواہی نخواہی فقیر کو ایضاح حقیقۃ الامر پر مجبور کرتاہے فاستمع لما یتلی علیک( کی جانے والی گفتگو کو اچھی طرح ملاحظہ کیجئے۔ت)امام اجل طحاوی نے اپنی کتاب مستطاب شرح معانی الآثار کی کتاب الزکوٰۃ میں پہلا باب لاصدقہ علی بنی ہاشم وضع فرمایااور اس میں ایك حدیث نقل کرکے ارشاد کیا کچھ لوگ اس کی بناء پر بنی ہاشم کے لیے صدقہ جائز رکھتے ہیں پھر اُن کے تمسك کا جواب شافی دیا پھر حدیثِ فدك سے اُن کا استناد ذکر کرکے اُس کا بھی جواب کافی تحریر کیا پھر فرمایا:
|
قد جاءت ھذہ الاثار عن رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم متواترۃ بتحریم الصدقۃ علیٰ بنی ھاشم۔[1] |
ان آثار کے بعد رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم سے متواتر طور پر احادیث سے ثابت ہے کہ بنو ہاشم پر صدقہ حرام ہے۔ (ت) |
پھر احادیث امام حسن مجتبیٰ وعبداﷲبن عباس وعبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث و سلمان فارسی وابو رافع وہرمزیا کسیان ورشیدبن مالك وابی لیلیٰ وبریدہ اسلمی وانس بن مالك ودوحدیث ابی ہریرہ ودوحدیث معٰویہ بن حیدہ قشیری رضوان اﷲتعالیٰ علیہم اجمعین چودہ حدیثیں حضورپُر نور سیّدعالم صلی اﷲتعالےٰ علیہ وسلم سے باسانید کثیرروایت کرکے فرمایا:
|
فھذہ الاثار کلھا قد جاءت بتحریم الصدقۃ علی بنی ہاشم لانعلم شیأ نسخھا ولا عارضھا الاما قد ذکرناہ فی ھذاالباب ممالیس فیہ دلیل علیٰ مخالفتھا۔٢[2] |
یہ تمام آثار بنو ہاشم پر صدقہ کی حرمت پر شاہد ہیں، ہمیں ان کے منسوخ ہونے یا انکے مقابل روایات کا علم نہیں مگر جو کچھ ہم نے اس باب میں ذکر کیا ہے وُہ کوئی ایسی دلیل نہیں جو ان آثار کی مخالفت پر ہو۔(ت) |
پھر حدیثًاو فقہًا اس مذہب کو مدلّل کیا کہ زکوٰۃ تو زکوٰۃ صدقہ نافلہ بھی بنی ہاشم پر حرام ہے اُن کے فقراء بعینہ حکمِ اغنیاء رکھتے ہیں، جو غنی کے لیے جائز ہے انھیں بھی مباح ہے اور جو غنی کو حلال نہیں اُنھیں بھی روا نہیں، پھر فرمایا:
|
ھذا ھو النظر فی ھذاالباب وھو قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمہم اﷲتعالیٰ۔٣[3] |
اس باب میں یہی دلیل ہے اور یہی امام ابو حنیفہ، امام ابویوسف اورامام محمد رحمہم اﷲتعالیٰ کا قول ہے(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع