30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
در روایتے از امام ابی حنیفہ جائز ست دریں زمان ۔[1] |
امام ابو حنیفہ سے ایك روایت میں اس زمانہ میں جائز ہے ۔(ت) |
در مختار میں ہے: ظاہر المذہب اطلاق المنع٢[2] (ظاہر مذہب ہر حال میں منع ہے۔ت)ردالمحتار و طحطاوی حاشیہ درمختار و حاشیہ مراقی الفلاح میں ہے وروی ابو عصمۃ عن الامام انہ یجوز [3] (شیخ ابو عصمۃ نے امام صاحب سے نقل کیا کہ بنو ہاشم کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ت) ذخیرۃ العقبٰی حاشیہ شرح وقایہ میں ہے:
|
روی عن الامام الاعظم جواز دفع الزکوٰۃ الی الہاشمی فی زمانہ۔[4] |
امام اعظم سے روایت ہے کہ ہمارے دور میں ہاشمی کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔(ت) |
شرح نقایہ برجندی میں فتاوٰی عتابی سے ہے: عن ابی حنیفۃ انہ یجوز[5] (امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲسے منقول ہے کہ ہاشمی کو زکوٰۃ دینا جائزہے۔ت)
|
اقول: فلا علیك مما فی قول النتف المنقول فی السوال من الایھام۔ |
اقول:(میں کہتا ہوں)النتف میں جو کچھ منقول ہے اس سے وہم نہیں ہونا چاہئے۔(ت) |
اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جو کچھ ظاہر الروایۃ کے خلاف ہے ہمارے ائمہ کا قول نہیں بلکہ مرجوع عنہ ہے اور مرجوع عنہ پر عمل ناجائز۔ امام خیر الدین رملی عالمِ فلسطین اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں :
|
ھذا ھو المذ ہب الذی لا یعدل عنہ الی غیرہ وما سواہ روایات خارجۃ عن ظاہر الروایۃ، وما خرج عن ظاہر الروایۃ، وما خرج عن ظاہر الروایۃ فہو مرجوع عنہ لما قررہ فی الاصول من عدم امکان صدور قولین |
یہ وُہ مذہب ہے جس کے غیر کی طرف عدول جائز نہیں،اس کے علاوہ دیگر روایات ظاہرالروایۃ سے خارج ہے، اور جو ظاہر روایت سے خارج ہو وہ مرجوع عنہ ہوتا ہے کیونکہ اصول میں مسلّمہ ہے کہ کسی مجتہد سے دو٢ مختلف مساوی اقوال صادر نہیں ہوسکتے لہذا مرجوع عنہ |
[1] اشعۃ اللمعات ،کتاب الزکوٰۃ باب لاتحل لہ الصدقۃ ،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ،٢/٢٥
[2] درمختار،باب المصرف،مطبع مجتبائی دہلی ،١/١٤١
[3] حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب المصرف دارالمعرفۃ بیروت ١/٤٢٨
[4] ذخیرۃ العقبیٰ حاشیۃ شرح وقایہ ، کتاب الزکوٰۃ باب المصارف منشی نو لکشور کانپور ،١/١٣٨
[5] شرح النقایۃ للبر جندی فصل فی مصارف الزکوٰۃ منشی نولکشور کانپور ١/٢٠٧
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع