30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
جب زید نے بکر کو مال صدقہ میں دیا اور بکر قابض ہوگیا اور وہ محل صدقہ تھا یا نہ تھا اور زید جانتا تھا کہ بکر محلِ صدقہ نہیں غنی جان کر صدقہ دیا تو دونوں صورتوں میں بکر مالك ہوگیا،
|
فقد نص العلماء کما فی ردالمحتار وغیرہ ان الصدقۃ علی الغنی لھا اجروان کان دون اجر الصدقۃ علی الفقیر۔[1] |
ردالمحتار وغیرہ میں علماء سے تصریح ہے کہ غنی پر صدقہ کا بھی اجر ہے مگر اس اجر سے یہ اجر کم ہوگا جو فقیر پر صدقہ سے حاصل ہوتا ہے۔(ت) |
اور جب وہ مالك ہوگیا اور اپنی طرف سے سیّد کو نذر کرے نہ بطور صدقہ زکوٰۃ بلکہ بطور ہدیہ و ہبہ تو سیّد کو اس کا لینا جائز ہے اگر چہ بکر کو زکوٰۃ ہی دی گئی ہو،
|
قال علیہ الصلو ۃ والسلام فـــــ لك صدقۃ ولنا ھدیۃ۔ [2]واﷲ تعالٰی اعلم |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :تمھارے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ١٢٧: مسئولہ محمد عمر جوان المعروف بہ قادری سکنہ موضع باسنی پر گنہ ناگوار مارواڑ ربیع الاول ١٣٣٤ھ
الحمد ﷲرب العٰلمین والعاقبۃ للمتقین والصلٰوۃ والسلام علیٰ سید نا محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین، امّا بعد! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ضلع مارواڑ تحت حکومت ناگوار میں ایك قصبہ ہے معروف بہ باسنی جہاں تخمینًانوصد گھر مسلمانوں کے ہیں اور بفضلہ سب صغیر و کبیر برنا وپیر صوم صلٰوۃ کے اس حد تك پابند ہیں کہ سفروحضر، صحت سقم، رنج وراحت غرضکہ ہر ۤحالت میں نماز گزاراورپابندِصلٰوۃ ہیں۔ قصبہ بھر میں شاذونادر کوئی ایسا بدبخت ہوگا جو نماز نہ پڑھتا ہو، اما بوجہ نہ ہونے علم کے احکامِ شرعیہ و مسائلِ ضروریہ سے محض نابلد ہیں، جہالت کی اس قدر گرم بازاری ہے کہ آبا واجداد کی رسوم کو کافی ووافی سمجھ کر مسائل شرعیہ سے(نہ بوجہ تعصب کے بلکہ بباعث نہ ہونے علم کے)یك لخت گریز ہے حق و باطل میں امتیاز ہونہیں سکتا لیکن باوجود اس بات کے بھی اگرحُسنِ اتفاق سے کوئی عالم آجائے تو اس کے وعظ میں بیٹھ کر تحصیل فیضان کرتے ہیں، افعالِ بد پر متنبّہ ہونے کے بعد تو بہ استغفار بھی کرتے ہیں اور کسی مسائل گو کی بات پر چنداں چُون و چرابھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع