30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زکوٰۃ کاروپیہ کوئی مسلمان قبضہ کرکے جوخود بھی مستحقِ زکوٰۃ ہوتوسیعِ مسجد میں صرف کرے تو جائز ہے یا کس صورت سے؟بینواتوجروا
الجواب :
زکوٰۃ دہندہ نے اگر زرِ زکوٰۃ مصرف زکوٰۃ کو دے کر اس کی تملیك کردی تواب اُسے اختیار ہے جہاں چاہے صرف کرے کہ زکوٰۃ اس کی تملیك سے ادا ہوگئی، یُوں ہی اگر مزکی نے زرِ زکوٰۃ اسے دیا اور ماذون مطلق کیا کہ اس سے جس طور پر چاہو میری زکوٰۃ ادا کردو اس نے خود بہ نیتِ زکوٰۃ لے لیا، اس کے بعد مسجد میں لگادیا تو یہ بھی صحیح وجائز ہے، یونہی اگر مزکی نے زرِ زکوٰۃ نکال کر رکھا تو فقیر نے بے اس کی اجازت کے لے لیا اور مالك نے بعداطلاع اس کا لینا جائز کردیا اور اس کے بعد فقیر نے مسجد میں صَرف کیا تو یہ بھی صحیح ہے،اور اگر فقیر نے بطور خود قبضہ کرلیا اور مالك نے اُسے جائز نہ کیا یا بعد اس کے کہ یہ مسجد میں لگا چُکا،جائز کیا، تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ یونہی اگر مالك نے اسے روپیہ دیا اور وکیل کیا کہ میری طرف سے کسی فقیر کو دے دو یہ بھی فقیر ہے خود لے لیا اور مسجد میں لگا دیا تواب بھی زکوٰۃ ادا نہ ہوئی اگر چہ اسے ماذون مطلق کیا ہو کہ تملیك نہ پائی گئی اور اس پر روپے کا تاوان آئے گا۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔
مسئلہ ١٢٥: ازمقام ترسائی کاٹھیاواڑ مرسلہ احمد داؤد صاحب یکم جمادی الآخر ١٣٣٦ھ
فی زمانہ سیّدوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں، فاقوں تك بعض کی نوبت پہنچی ہے، ایسی صورت میں زکوٰۃ لینا یا بغیر اس عذر کے بھی زکوٰۃ لینا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب:
سیّدکو زکوٰۃ لینا دینا حرام ہے اور اسے دئے زکوٰہ ادا نہیں ہوتی، اور فاقوں پر نوبت اگر اس بنا پر ہو کہ نوکری یا مزدوری پر قدرت ہے اور نہیں کرنا چاہتا تو یہ فاقہ بھی عذر نہیں ہوسکتا کہ یہ اپنے ہاتھ کا ہے کیوں نہیں کسبِ حلال کرتا، اور اگر واقعی کسب پر قادرنہیں تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس کی اعانت کریں، اور اگر لوگ بے پروائی کریں اور اُسے کوئی ذریعہ رزق کا سوا زکوٰۃ لینے کے نہ ہو تو بقدر ضرورت لے اور قدر ضرورت میں صرف کرے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ١٢٦:از مرزا پور سول لائن بنگلہ مولوی محب اﷲصاحب ڈپٹی کلکٹر مرسلہ محمد عبدالقادر صاحب بدایونی ١٢جمادی الاولیٰ ١٣٣٦ھ
زید نے بکر کو صدقہ دیا،بکر کو علم ہے کہ صدقہ ہے، ایسی صورت میں بکراُس مال کو سیّد کو دے سکتا ہے یا نہیں،اور وُہ مال بکر کی ملکیت ہے یا زید کی، جبکہ زید بکر کو دے چکا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع