30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے بچّوں کے صَرف میں نہیں کی جاسکتی، اس سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، ماں کا جو کچھ بچّوں کے صَرف میں اُٹھ گیا زکوٰۃ میں مجرا نہیں ہوسکتا اگر چہ بچوں کا خرچ باپ پر ہے ماں پر نہیں، وہ طریقہ کہ زکوٰۃ کا مال بہ نیت زکوٰۃ کسی محتاج کو دے کر مالك کردیا جائے پھر اس کی رضا مندی سے تھوڑے داموں کو اس سے خرید لیں، یہ حیلہ بضرورت صرف ایسی جگہ ہوکہ مثلًا کسی سیّد صاحب کو حاجت ہے مالِ زکوٰۃ انھیں دے نہیں سکتے اور اپنے پاس زرِ زکوٰۃ سے زیادہ دینے کی وسعت نہیں تو اس طرح زکوٰۃ ادا کرکے برضا مندی مول لے کر سید صاحب نذر کردیا جائے یا مسجد کی تعمیر یا میّت کے کفن میں لگا دیا جائے کہ یہ سب نیتیں اﷲ ہی کے لیے ہیں ، خرید کر اپنے یا اپنے بچّوں کے صرف میں لانے کی غرض سے یہ حیلہ نہیں کہ اس میں راہِ خدا میں مال خرچ کرکے، پھر جانا پایا جائیگا والعیاذباﷲتعالیٰ، آسان طریقہ جو یہاں ہوسکے یہ ہے کہ آدمی جن کی اولاد میں خودہے یعنی ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی یاجو اپنی اولاد میں ہیں یعنی بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، نواسا نواسی اور شوہر و زوجہ ان رشتوں کے سوا اپنی جو عزیز قریب حاجتمند مصرفِ زکوٰۃ ہیں اپنے مال کی زکوٰۃ انھیں دے جیسے بہن بھائی، بھتیجا بھتیجی،ماموں ،خالہ ،چچا ،پھوپھی کہ انھیں دینے میں دونا ثواب ہے اور نفس پر بار بھی کم ہو گا کہ اپنے سگے بہن بھائی یا بھتیجے بھانجے کا دیا ہوا آدمی اپنے کام میں ہی اٹھنا جانتا ہے پھر یہ بھی کچھ ضرورنہیں کہ انھیں زکوٰۃ جتا ہی کر دے بلکہ دل میں زکوٰۃ کی نیت ہوانھیں عیدی وغیرہا یا شادیوں کی رسوم خواہ کسی بات کا نام کرکے مالك کردے زکوٰۃ ادا ہوجائیگی، پھر اگر مثلًا اپنے بہن بھائی کو دیا اور اُنھوں نے اُس کے بچوں پر خرچ کی تنگی دیکھ کر اپنی خوشی سے اس کے بچوں پر ہبہ کر دیا تو زکٰوۃ میں کچھ خلل نہ آئے گا نہ مقصود شریعت کے خلاف ہو گا اور دونوں مطلب یعنی ادائے زکوٰۃ اور بچّوں کے خرچ کی وسعت حاصل ہوجائیں گے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ١٢٠ : از موضع مکہ جبی والا علاقہ جاگل تھانہ پر ہپو ڈاکخانہ کوٹ نجیب اﷲخاں مرسلہ مولوی محمد شیر صاحب ١٤ جمادی الآخر ١٣١٤ھ
اپنی دختریا حقیقی ہمشیرہ کو زکوٰۃ یا زمین کا عشر دینا جائز ہے یا نہیں؟بینوا توجروا
الجواب:
بہن کو جائز ہے جبکہ مصرفِ زکوٰۃ ہو اور بیٹی کو جائز نہیں،
|
فی الدرالمختار مصرف الزکوٰۃ والعشر فقیر الخ وفیہ لا یصرف الی من بینھما ولاد الخ۔[1] واﷲ تعالیٰ اعلم ۔ |
درمختار میں ہے کہ زکوٰۃ و عشر کا مصرف فقیر ہے الخ اور اسی میں ہے کہ زکوٰۃ و عشر ایسے لوگوں پر صرف نہ کی جائے جن سے اپنی ولادت کا تعلق ہوالخ واﷲتعالیٰ اعلم۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع