30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(کیونکہ زکوٰۃ کا مصرف نہیں ہے۔ت)نہ کسی فقیر نہ مسکین کے دینی خواہ دنیوی مقدمہ میں وکیلوں ،مختاروں کو دینے یا اور خرچوں میں اٹھانے سے اداممکن،جب فقیر کو دے کر اُس کے قبضے کے بعد اُس سے لے کر صرف نہ کیا جائے فان الصدقۃ لا تحصل الا بتملیك مصرفھا ولا تتم الابقبضۃ(کیونکہ صدقہ تب ادا ہوگا جب کسی مصرف کو مالك بنایا جائے گا اور تملیك کا اتمام قبضہ کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ت) پس اگر اس قسم کے معاملات میں اٹھانا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو شخص شرعًا مصرفِ زکوٰۃ ہے اسے بہ نیتِ زکوٰۃ دے کر اُس کا قبضہ کرادیں پھر وُہ اپنی طرف سے اپنے آپ خواہ اُسے دے کر خریداری یتیم خانہ خواہ کسی دینی مقدمہ امورِ خیر میں لگا دے۔ عالمگیریہ وغیرہا میں ہے:
|
فی جمیع ابواب البر کعمارۃ المساجد وبناء القناطیر،الحیلۃ ان یتصدق بمقدار زکوٰۃ علی فقیر ثم یا مرہ بالصرف الیٰ ھذہ الوجوہ فیکون للمتصدق ثواب الصدقۃ وللفقیر ثواب بناء المسجد والقنطرۃ١[1] (ملخصًا) واﷲتعالیٰ اعلم۔ |
تمام امور خیر مثلًا تعمیر مساجد اور پُلوں کی تعمیر وغیرہ میں حیلہ یہ ہے کہ مقدارِ زکوٰۃ فقیر پر صدقہ کی جائے پھر اسے ان امور پرخرچ کرنے کے لیے کہاجائے تو اب صدقہ کرنے والے کے لیے صدقہ کا ثواب اور فقیر کے لیے مسجد اور پُل کی تعمیر کا ثواب ہوگا(ملخصًا)واﷲتعالیٰ اعلم (ت) |
مسئلہ ١١٩: ٢٢شوال ١٣١٤ھ
سوالِ اوّل بعد سلام کے عرض ہے میرے پاس سوا اس کے جو شوہر کے پاس سے صرف کے لیے آتا ہے اور کوئی آمد نہیں، اور وُہ اتنی ہے کہ گزر بھی مشکل ہوتی ہے عرض ہے کہ ایسی صورت بتائیے کہ جس میں زکوٰۃ بھی ادا ہو اور خرچ کی بھی دقت نہ ہو، یہ بڑی بی کہتی ہیں کہ آپ کے یہاں مجھ کو کچھ روپیہ دئے اور پھر وہ دوآنہ میں مول لئے یا جو خرچ مجھ کو شوہر کے پاس سے ملتا ہے اُس میں سے زکوٰۃ ادا کرکے بچوں کے صرف کی جائے تو کچھ بُرائی تو نہیں؟ یا جو روپیہ والد کے ترکہ کا ملا تھا وہ میرا بچوں کے صرف میں ہوگیا وہ ہوسکتا ہے کہ میں زکوٰۃ میں مجرا کرلوں اس واسطے کہ آپ فرماتے ہیں بچوں کا صَرف باپ کے ذمّہ ہے۔
الجواب:
زیور خود مال ہے اُس میں سے زکوٰۃ ادا کی جائے، شوہر سے جو کچھ خرچ بچوں کے لیے ملتا ہے اُس میں سے زکوٰۃ دینے کا ہرگزاختیار نہیں تمہارے خرچ کو جو کچھ دیتے ہیں اُس میں سے زکوٰۃ دے سکتی ہو، اپنے مال کی زکوٰۃ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع