30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب :
تنخواہِ مدرسین میں نہیں دے سکتے، ہاں طلبہ کو تملیك کرسکتے ہیں اگر چہ یتیم نہ ہوں۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ١١٥: از میرٹھ سٹی ضلع جودھ پور مسئولہ فخرالدین شاہ ١٩ذی القعدہ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ یتیموں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟بچہ اپنی قرابت کا ہے اُس کا وارث کوئی نہیں۔ بینواتوجروا
الجواب:
یتیم بچّہ خصوصًا جبکہ اپنا قرابت دار ہو زکوٰۃ دینا بہت افضل ہے جبکہ وہ نہ مالدار نہ سید وغیرہ نہ ہاشمی ہو نہ اپنی اولاد یا اولاد کی اولاد ہو۔ ہاں بھائی بھانجا ہو تو وہ بشرائط مذکورہ سب سے زیادہ مستحق ہے واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ١١٦: از شہر محلہ مملوك پور مرسلہ جناب سید محمد علی صاحب نائب ناظر فرید پور ٣٠رمضان المبارك ١٣٢٩ھ
زرِ زکوٰۃ میں سے اگر یتیموں مساکین کو کھلایا جائے یا کپڑا بنایا جائے تو جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:
کپڑا بنا کر ان کو دے کر مالك کردینا، کھانا پکا کر اُن کے گھر کو بھیج کر قبضہ میں دے کر مالك کر دینا تو حالت موجود پر یہ سِلا ہو کپڑا اور پکاہوا کھانا بازار کے بھاؤ سے جتنے کا ہے اُس قدر زکوٰۃ میں مجرا ہوگا ، سلائی پکوائی وغیرہ مجرا نہ ملے گی اور اگر اپنے یہاں پکا کر دسترخوان پر بٹھلا کر کھلادیا جس طرح دعوتوں میں ہوتا ہے تو وہ زکوٰۃ نہیں ہوسکتا لانھا تملیك وھذہ اباحۃ(کیونکہ زکوٰۃ میں مالك بنانا ہوتا ہے اور اس صورت میں ملکیت نہیں بلکہ اباحت ہے۔ت) واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ١١٧تا١١٨: ٢٣ ذیقعدہ ١٣١١ھ
(١) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو مکان واسطے یتیموں کے خریدا جائے اس کی بیع میں زکوٰۃ کا روپیہ دینا درست ہے یا نہیں ، اور وہ مکان نام یتیم خانہ کے ہو۔
(٢)کہ مضحومہ جو واقعہ جسولی میں کٹگھر والوں سے ہوا ہے اس کے صرف میں زکوٰۃ کا روپیہ دیا جائے یا نہیں کیونکہ وہ مذہبی معاملہ قرار دیا گیا ہے۔
الجواب:
یتیم خانہ کی خریداری میں روپیہ لگادینے سے زکوٰۃ ہرگز ادا نہ ہوگی لانہ ان کان وقفا والزکوٰۃ تملیك فلا یجتمعان (کیونکہ یتیم خانہ اگر وقف ہے اور زکوٰۃ میں تملیك ہوتی ہے لہٰذا ان دونوں کا اجتماع نہیں ہوسکتا۔ت)نہ کسی غنی کو صرف مقدمہ کے لیے دینے سے ادا ہوسکے اگر چہ وہ مقدمہ مذہبی دینی ہو فان الغنی لیس بمصرف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع