30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زکوٰۃ نہیں، یہ خالص زکٰوۃشرعی کا جمع کیا ہو ا مال کہ مالکوں سے اذن سے خلط کیا گیا اُن فقراء مظلومین کو پہنچایا جائے ۔ ردالمحتار میں زیرِ عبارت مذکورہ درمختارہے
|
قولہ ضمن وکان متبرعا، لانہ ملکہ بالخلط وصارمؤدیا مال نفسہ قال فی التتارخانیۃ الااذا وجد الاذن أو اجازا المالکان اھ ویتصل بھذاالعالم اذا سئل للفقراء شیأ و خلط یضمن قلت و مقتضاہ لو وجد العرف فلا ضمان لوجود الاذن حینئذ دلالۃ۔[1]واﷲ سبحانہ و تعالیٰ۔ |
ان کا قول ہے وکیل ضامن ہوگا اور اس کی ادائیگی بطور تبرع ہوگی کیونکہ خلط ملط کرنے سے وہ مالك ہوجاتا ہے اور اب وہ اپنے مال کو ادا کرنے والا ہوگا۔ تتارخانیہ میں ہے کہ مگر اس صورت میں جب اجازت ہو یا مالك اسے جائز کردیں اھ اس کے ساتھ وہ صورت بھی ملحق ہے جب کسی عالم نے فقراء کے لیے کچھ مانگا اور خلط ملط کردیا تو وُہ ضامن ہوگا۔ میں کہتا ہوں اس کا مقتضایہ ہے اگر عرفًاایسا کیا جاتا ہوتو اب ضمان نہ ہوگا کیونکہ اس وقت دلالۃًاجازت موجود ہے۔ واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم(ت) |
مسئلہ ١١۳: مسئولہ امیر حسن بنگالی طالب علم مدرسہ اہلسنت وجماعت ٢٨ربیع الآخر ١٣٣٤ھ
مالدار کے لیے صدقہ لینا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب:
صدقہ واجبہ مالدار کو لینا حرام اور دینا حرام، اور اس کے دئے ادا نہ ہوگا، اور نافلہ مانگ کر مالدار کو لینا حرام اور بے مانگے مناسب نہیں جبکہ دینے والا مالدار جان کردے اور اگر وہ محتاج سمجھ کردے تو لینا حرام،اور اگر لینے کے لیے اپنے آپ کو محتاج ظاہر کیا تو دوہراحرام، ہاں وہ صدقاتِ نافلہ کہ عام خلائق کے لیے ہوتے ہیں اور ان کے لینے میں کوئی ذلّت نہیں وُہ غنی کو بھی جائز ہیں جیسے حوض کو پانی، سقایہ کا پانی، نیاز کی شیرینی، سرائے کا مکان، پل پر سے گزرے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ۱۱۴: ازبریلی محلہ کانکر ٹولہ متصل مسجد خورد مرسلہ الطاف علی خاں مورخہ ١٣ ذی الحجہ ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مدرسہ دینیہ میں زکوٰۃ و صدقہ مدرسین کو دینا جائز ہے یا نہیں، تنخواہ میں دینا و طلباء کو جو کہ یتیم ہیں ان کی تعلیم کے اخراجات کے واسطے دینا جائز ہے یا نہیں ؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع