30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثالث ابن السبیل، اور یہ سب مصارف زکوٰۃ ہیں۔درمختار میں ہے:
|
مصرف الزکوٰۃ فقیر و فی سبیل اﷲوھو منقطع الغزاۃ وابن السبیل وھوکل من لہ مال لامعہ۔[1] (ملخصًا) |
زکوٰۃ فقراء خرچ کی جائے اور اﷲتعالیٰ کی راہ میں، اور اس سے مراد محتاج غازی اور مسافر، اور اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جس کا مال تو ہو مگر اس کے پاس نہ ہو۔(ت) |
یا یہ ہوکہ یہاں کسی معتمد فقیر کو دے کر مالك کرکے قبضہ دے دیں وُہ اپنی طرف سے اس چندہ میں دے دے، اب کوئی شرط نہیں ہر مصرف میں صرف ہوسکتی ہے، اور زکوٰۃ دہندہ اور فقیر د ونوں کو ثواب ملے گا۔ درمختار میں ہے:
|
حیلۃ التکفین بھا التصدق علی فقیر ثم ھو یکفن فیکون الثواب لھما وکذا فی تعمیر المسجد۔٢[2] |
تکفین کے لیے حیلہ یہ ہے کہ زکوٰۃ فقیر کو دی جائے فقیر کفن بنوادے، تو اب ثواب دونوں کے لیے ہوگا، اسی طرح تعمیر مسجد میں حیلہ کی صورت ہے۔ (ت) |
پھر صورت اولیٰ میں کہ خود زکوٰۃ ہی ان جائز مصارف کے لیے وہاں بھیجے، اگر ابھی اس کی زکوٰۃ کا سال تمام نہ ہُوا تھا پیشگی دیتا ہے جب تو دوسرے شہر کو بھیجنا مطلقًاجائز ہے اور اگر سال تمام کے بعد بھیجے جب بھی اس صورت میں حکم جواز ہے کہ مجاہدوں کی اعانت میں اسلام کا زیادہ نفع ہے۔ درمختار میں ہے:
|
کرہ نقلھا الّا الٰی قرابۃ او احوج او اصلح او اورع او انفع للمسلمین، اوکانت معجلۃ قبل تمام الحول فلا یکرہ خلاصۃ۔٣[3] (ملخصًا) |
زکوٰۃ کو دوسری جگہ منتقل کرنا مکروہ، ہاں اس صورت میں مکروہ نہیں جب دوسری جگہ کوئی رشتہ دار، زیادہ محتاج ، نیک، صاحبِ تقویٰ یا مسلمانوں کا زیادہ فائدہ ہو یا سال سے پہلے جلدی زکوٰۃ دینا چاہتا ہو، خلاصہ(ت) |
مگر اطمینان ضرور ہو کہ ٹھکانے پر پہنچے بیچ میں خُوردبُرد نہ ہوجائے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع