30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے:
|
قال فی التتارخانیۃ اذا وجد الاذن أو اجاز المالکان اھ۔١[1] |
تاتار خانیہ میں ہے کہ کسی اذن کی وجہ سے ہو یا مؤکل اسے جائز کردیں اھ(ت) |
اسی میں ہے:
|
ثم قال التتارخانیۃ اووجدت دلالۃ الاذن بالخلط کما جرت العادۃ الخ۔[2]واﷲتعالیٰ اعلم۔ |
پھر تاتارخانیہ میں کہا کہ یا دلالۃً اختلاط کی اجازت ہو جیسے کہ عادت معروفہ ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ١ ١١: مسئولہ ناصر الدین صاحب پیلی بھیتی از آگرہ محلہ نئی بستی، گلی بدھو بیگ، مکان حافظ سعید الدین سوداگر لٹھا ١٦جمادی الاولیٰ ١٣٣٠ھ
کیا فرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جنگ اٹلی و شہنشاہِ روم کے واسطے اہل اسلام نے اکثر چندہ جمع کیا ہے، اگر زیور کی زکوٰۃ کا روپیہ جنگ مذکور کے واسطے شہنشاہِ روم کو بھیجا جائے تو یہ روپیہ دینا جائز ہوگا یا نا جائز؟بینواتوجروا
الجواب:
زکوٰۃ جہاد کے اُن مصارف میں جن میں فقیر کو تملیك نہ ہو جیسے گولے بارود کی خریداری یا فوج کی باربرداری یا فوجی افسروں کی تنخواہ یا فوجی دواخانہ کی دواؤں میں دینا جائز نہیں، نہ اس سے زکوٰۃ ادا ہو۔ عالمگیری میں ہے:
|
لایجوز ان یبنی با لزکاۃ المسجد وکذا الحج والجہاد وکل مالا تملیك فیہ کذا فی التبیین۔[3] |
زکوٰۃ سے مسجد بنانا جائز نہیں، اسی طرح حج اور جہاد، بلکہ وُہ مقام جہاں تملیك نہ ہو۔ تبیین میں یہی ہے۔ (ت) |
ہاں فقیر مجاہدوں کو دی جائے یا شہیدوں کے فقیر پس ماندوں کویا ان مجاہدوں کو جو سفر کرکے آئے گھر پر اموال رکھتے ہیں یہاں مصارف کے لیے کچھ پاس نہیں ان کو دینا جائز ہے اول فی سبیل اﷲ ہے،ثانی فقراء اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع