30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اوولد صالح ید عولہ۔[1]رواہ البخاری فی ادب المفرداو مسلم فی الصحیح وابوداؤد و الترمذی عن النسائی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ۔ |
صدقہ جاریہ کیا تھا، دوسرا اس کا ایسا عمل جواب بھی نافع ہے یا اس کی نیك اولاد جو اس کے لیے دعا کرے اسے امام بخاری نے ادب المفردمیں، مسلم نے صحیح میں، ابو داؤد، ترمذی اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔(ت) |
مگر اولًا فقیر کو بہ نیت زکوٰۃ دے کر مالك کر دینا ضرور ہے پھر وُہ فقیر طبع کتاب میں خود دے دے یا اس سے دلوادے، جیسا کہ درمختار و بحرالرائق کی عبارت سے گزرا، یا جو جو طریقے ائمہ نے کتبِ فقہ میں لکھے ہیں بجالائے۔ درمختار میں ہے:
|
حیلۃ الجواز ان یعطی مدیونہ الفقیر زکوٰتہ ثم یأۤخذھا عن دینہ ولوامتنع المدیون مدّیدہ واخذ ھا لکونہ ظفر بجنس حقہ فان مانعہ رفعہ للقاضی۔ ٢[2] |
حیلہ جوازیُوں ہے کہ اپنے مقروض فقیر کو زکوٰۃ دی جائے پھر اس سے اپنے قرض میں واپس لی جائے اور اگر مقروض نہ دے تو اس سے چھین لے کیونکہ یہ اپنے حق پر قدرت کا معاملہ ہے، اگر اس پر بھی نہ دے تو قاضی کی طرف معاملہ لے جایا جائے(ت) |
اور سب سے آسان یہ ہے کہ ایك دیندار شخص کے پاس سب زکوٰۃ دہندہ اپناچندہ جمع کریں اور اس سے کہہ دیں کہ زرِ زکوٰۃ ہے طریقہ شرعیہ پر بعد تملیك فقیر طبع میں ہمارے ثواب کے لئے صرف کر،وہ ایسا ہی کرے ، سب زکوٰتیں بھی ادا ہوجائیں گی اور وُہ دینی ضروری نافع کام بھی ہوجائیگا اور یہ اموال کا ملانا کہ باذن مالکانہ ہے کہ چندہ کا یہی طریقہ معروفہ معہودہ ہے کچھ مانع نہ ہوگا۔ درمختارمیں ہے:
|
لوخلط زکوٰۃ موکلیہ ضمن وکان متبر عا الا اذا وکلہ الفقراء۔[3] |
اگر اپنے موکلین کی زکوٰۃ خلط کردی تو وکیل ضامن ہوگا اور وُہ تبرع کرنے والا ہوگا مگر اس صورت میں جب فقراء نے اسے اپنا وکیل قرار دے دیاہو۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع