30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسجد مذکور کے قُرب و جوار کے مسلمانوں میں اس قدر استطاعت نہیں کہ جو چندہ فراہم کرکے مکان مذکورکو خرید سکیں ۔ (٢)ایسی کتاب دینی جو اگر طبع کی جائے تمام مسلمانانِ عالم میں مفید ثابت ہوسکتی ہے اگر کوئی شخص زرِ زکوٰۃ سے چندہ فراہم کرکے کتاب مذکور بغرض رفاہِ عام چھپوائے تو ان چندہ دہندہ گان اصحاب کا زرِ زکوٰۃ ادا ہوگا یانہیں؟
الجواب :
(١)جبکہ اس نے فقیر مصرف زکوٰۃ کو بہ نیّت زکوٰۃ دے کر مالك کر دیا زکوٰۃ ادا ہوگئی اب وہ فقیر مسجد میں لگا دے دونوں کے لیے اجرِ عظیم ہوگا، درمختار میں ہے:
|
وحیلۃ التکفین بھا التصدّق علی فقیر ثم ھو یکفن، الثواب لھما وکذافی تعمیرالمسجد۔[1] |
کفن بنانے کے لیے یہ حیلہ ہے کہ صدقہ فقیر کو دیا جائے پھر وُہ فقیر کفن بنا دے تو ثواب دونوں کے لئے ہوگا،اسی طرح تعمیرِ مسجد میں حیلہ کیا جاسکتاہے۔ (ت) |
بحرالرائق میں زیر قول متن لا الی بناء مسجد و تکفین میّت وقضاء دینہ وشراء قن یعتق(زکوٰۃ سے تعمیر مسجد ، میّت کے لیے کفن اور اس کا اداء قرض اور ایسے غلام کا خریدنا جائز نہیں جسے آزاد کردیا گیا ہو۔ت)فرمایا:
|
والحیلۃ فی الجواز فی ھذہ الاربعۃ ان یتصدق بمقدار زکوٰتہ علی فقیر ثم یأمرہ بعد ذٰلك الصرف فی ھذہ الوجوہ فیکون لصاحب المال ثواب الزکوٰۃ و للفقیر ثواب ھذہ الصرف کذافی المحیط۔٢[2] |
ان چاروں میں جواز کا حیلہ یہ ہے کہ آدمی زکوٰۃ فقیر کو دے پھر اسے کہے کہ ان چاروں پر خرچ کرے، صاحبِ مال کیلئے زکوٰۃ کا ثواب اور فقیر کے لیے خرچ کا ثواب ہوگا۔ کذافی المحیط(ت) |
(٢)جائز ہے اور اس میں چندہ دہندوں کے لیے اجرِ عظیم اور ثواب جاری ہے، جب تك وہ کتاب باقی رہے گی اور نسلًابعد نسلٍ جن جن مسلمانوں کو فائدہ دے گی ہمیشہ ان کا اجر ایك چندہ دہندے کو اُس کی حیات میں اور اُس کی قبر میں پہنچتا رہے گا۔ رسول اﷲصلے اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
|
اذا مات الانسان انقطع عملہ الامن ثلث صدقۃ جاریۃ او عمل ینتفع بھا |
جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے مگر تین صورتوں میں جاری رہتا ہے:ایک،اس نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع