دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 10 | فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

book_icon
فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

الغزاۃ وقیل الحاج وقیل طلبۃ العلم وفسرہ فی البدائع بجیمع القرب، قال فی النھر والخلاف لفظی للاتفاق علی ان الاصناف کلھم سوی العامل یعطون بشرط الفقر اھ[1] (ملخصًا)وفیہ تحت قولہ وبھذا   التعلیل یقوی مانسب للواقعات من ان طالب العلم یجوزلہ اخذالزکوٰۃ ولوغنیا اذا فرغ نفسہ لافادۃ العلم واستفادتہ، ھذاالفرع مخالف لا طلا قھم الحرمۃ فی الغنی ولم یعتمدہ احد  ط، قلت وھو کذٰلك والاوجہ تقییدہ بالفقیر[2] الیٰ اخرما افادہ ،علیہ رحمۃ الجواد۔ واﷲ سبحانہ  وتعالیٰ  اعلم۔

قول"اور اﷲکی راہ میں"سے مرادوہ غازی ہیں جن کے پاس جہاد کا خرچہ نہیں، بعض نے حاجی قرار دیا، بعض کے نزدیك طلبہ مراد ہیں۔ بدائع میں اس کلمہ کی تفسیر"تمام ثواب والے کام"سے کی ہے ، نہرمیں ہے کہ عامل کے سوا تمام مصارف پر تب خرچ کیا جائے گا جب وہ فقیر ہوں اھ اور اسی میں ماتن کے قول، اس علت کے بیان سے واقعات کی طرف منسوب اس قول کی تقویت ہوجاتی ہے کہ طالبعلم کو زکوٰۃ لینا جائز ہے خواہ وہ غنی ہو بشرطیکہ اس نے اپنے آپ کو علم پڑھانے اور پڑھنے کے لیے مختص کررکھا ہو کہ یہ تفریع فقہاء کرام کے حرمتِ زکوٰۃ کو غنی کے لئے مطلق رکھنے کے خلاف ہے جبکہ اس پر کسی نے اعتماد نہیں کیا، ط۔ میں کہتا ہوں  یہ معاملہ یونہی ہے، موزوں یہی ہے کہ طالبعلم کو فقیر ہونے سے مقید کیا جائے(ان کے افادہ کے آخر تک)ان پر اﷲتعالیٰ جواد کی رحمت ہو، واﷲ سبحانہ وتعالیٰ اعلم(ت)

مسئلہ٩٠:                                از شہر بہرائچ محلہ ناظر پورہ مسؤلہ حکیم محمد عبدالوکیل صاحب

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسمی زید نے مسجد یا کنواں مسجد سے متعلق طاہر پانی کے لیے تیار کیا اور بوجہ کمی سرمایہ کے بالآخر قرضدار ہوگیا لہذا اس صورت میں مالِ زکوٰۃ دینا جائز ہے کیونکہ قرضدار کو اس کے قرضہ ادا کرنے کے لیے مالِ زکوٰۃ لینا شرعًاجائز ہے کیونکہ منجملہ مصارف مال زکوٰۃ کے قرضہ بھی ایك مصرف ہے۔ بینو اتوجروا

الجواب :

جس پر اتنا دین ہو کہ اُسے ادا کرنے کے بعد اپنی حاجاتِ اصلیہ کے علاوہ چھپن روپے کے مال کا مالك نہ رہے گا اور وہ ہاشمی نہ ہو، نہ یہ زکوٰۃ دینے والا اس کے اولاد میں ہو، نہ باہم زوج و زوجہ ہوں، اسے زکوٰۃ دینا بیشك جائز


 

 



[1] ردالمحتار، باب المصرف ،مصطفی البابی مصر ،٢/٦٧

[2] ردالمحتار، باب المصرف ،مصطفی البابی مصر ،٢/٦۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن