30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من الام فقط غیر معتبر، یؤیدہ قول الھندیۃ عن البدائع فثبت ان الحسب والنسب یختص بالاب دون الام اھ فلا تحرم علیہ الزکوٰۃ ولا یکون کفوًاللھا شمیۃ ولا ید خل فی الوقف علی الاشراف ط اھ [1]وفیہ وقال فی الفتح ایضا ولا یحل لہ ای لا بن السبیل ان یاخذ اکثر من حاجتہ، قلت وھذا بخلاف الفقیر فانہ یحل لہ ان یاخذ اکثر من حاجتہ وبھذا فارق ابن السبیل کما افادہ فی الذخیرۃ اھ فیہ تحت قولہ ومنہ مالو کان مالہ مؤجلا،ای اذا احتاج الی النفقۃ یجوزلہ اخذ الزکوٰۃ قدر کفایتہ الی حلول الاجل،نھر عن الخانیۃ اھ، وفیہ تحت قولہ او علی غائب ای ولوکان حالا لعدم تمکنہ من اخذہ ط اھ[2] وفیہ تحت قولہ او معسر او جاحد ولولہ بینۃ فی الاصح، فیجوزلہ الاخذ فی اصح الاقاویل لانہ بمنزلۃ ابن السبیل ولوموسرا معتر فالا یجوز کما فی الخانیۃ [3]اھ، وفیہ تحت قولہ و فی سبیل اﷲ وھو منقطع |
ماں کی وجہ سے شرف معتبر نہیں"کے تحت ہے کہ ہندیہ نے بدائع سے جو لکھا ہے وُہ اس کا موئد ہے تو ثابت ہوگیا کہ حسب و نسب والد کے ساتھ مختص ہے نہ کہ ماں کے ساتھ اھ پس اس پر زکوٰۃ حرام نہیں اور نہ ہی وہ ہاشمی کا کفو بنے گا اور سادات پر وقف میں شامل نہ ہوگا ۔ اور اسی میں ہے فتح میں بھی ہے کہ اس (مسافر)کے لیے ضرورت سے زائد لینا جائز نہیں۔ میں کہتا ہُوں بخلاف فقیر کے کہ اس کے لیے ضرورت سے زاید لینا جائز ہے، اسی سے فقیر اور مسافر کے درمیان فرق واضح ہوگیا ، جیساکہ اس کا بیان ذخیرہ میں ہے اھ اور اس میں ماتن کے قول"اور ایسی ہی صورت وُہ ہے جس میں مال کے حصول کیلئے وقت مقرر ہو یعنی خرچہ کی ضرورت ہوتو وقت مقرر آنے تك بقدر کفایت زکوٰۃ لینا جائز ہے یہ نہر میں خانیہ سے ہے اور اس میں ماتن کے قول"یا وہ قرضہ کسی غائب پر ہے"کے تحت ہے یعنی اگر چہ قرضہ حالی ہو کیونکہ اس وقت اس کے حصول پر قادر نہیں اور اسی میں ماتن کے قول"یا مقروض تنگ دست یا منکر ہو اگر چہ اصح قول کے مطابق گواہ بھی ہوں"کے تحت ہے کہ اصح قول کے مطابق ایسے شخص کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے کیونکہ وہ مسافر کی طرح ہے اور اگر مقروض امیر اور معترف ہو تو جائز نہیں جیسا کہ خانیہ میں ہے اھ اور اسی میں ماتن کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع