30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اولم نسم نعم لاباس ان نورد نصوص بعض مایکاد یخفی او یستغرب، ففی ردالمحتار شمل الولاد بالنکاح والسفاح فلا یدفع الی ولد ہ من الزنا الخ [1]وفیہ تحت قولہ او بینھما زوجیۃ ولو مباینۃ ای فی العدۃ ولو بثلاث نھر عن معراج الدرایۃ اھ [2] وفیہ تحت قولہ ولوالی مملوك المزکی ولو مکاتبا وکذا مملوك من بینہ وبینہ قرابۃ ولاد او زوجیۃ لما قال فی الفتح الخ[3]وفیہ تحت قولہ و بخلاف طفل الغنیۃ فیجوز ای ولولم یکن لہ اب بحر عن القنیۃ اھ [4]وفیہ وقید بالولاد لجوازہ لبقیۃ الاقارب کالا خوۃ والاعمام و الاخوال الفقراء بل ھم اولیٰ لانہ صلۃ وصدقۃ ویجوزدفعھا لزوجۃ ابیہ وابنہ و زوج ابنتہ، تاترخانیہ اھ [5]ملخصا وفیہ من کتاب الوصایا تحت قولہ، الشرف |
ان کے ہم نے نام لیے ہیں یا نہیں، ان میں سے بعض ایسی نصوص کے ذکر میں بھی کوئی حرج محسوس نہیں کرتے جنھیں مخفی یا نادر سمجھا گیاہے۔ ردالمحتار میں ہے یہ تمام اولاد کو شامل ہے خواہ وہ نکاح کی وجہ سے ہو یا زنا کی وجہ سے، لہذا اولادِ زنا کو بھی زکوٰۃ نہیں دی جائیگی الخ اور اسی میں ماتن کے قول"یا ان کے درمیان زوجیت کا رشتہ ہو خواہ وہ مبائنہ ہو یعنی خواہ وُہ تین طلاق ہو جانے پر عدّت بسر کررہی ہو، یہ نہر میں معراج الدرایہ سے ہے اھ اور اسی میں ماتن کے قول"زکوٰۃ دینے والا اپنے غلام کو نہ دے خواہ وہ مکاتب ہو کے تحت ہے"اور اسی طرح اس غلام کا حکم ہے جس کے اور زکوٰۃ دینے والے کے درمیان رشتہ اولاد یا زوجیت ہو، اس دلیل کے پیش نظر جو بحر اور فتح میں ہے اور اسی میں ماتن کے قول"بخلاف غنی عورت کے بچّے کے کہ اسے دینا جائز ہے یعنی اس کا والد نہ ہو، یہ بحر میں قنیہ سے ہے اھ اور اسی میں ہے کہ اولاد کی قید اسی لیے ہے کہ باقی اقارب مثلًا بھائی بہنیں ، چچا اورخالو اگر فقراء ہوں تو انھیں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے بلکہ یہ لوگ زکوٰۃ کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ یہاں صلہ رحمی اور صدقہ دو۲چیزیں جمع ہوجاتی ہیں، اپنے والد اور بیٹے کی بیوی اور اپنے داماد کو زکوٰۃ جائز ہے تاتارخانیہ اھ ملخصًا اور اس میں کتاب الوصایا سے ماتن کے قول"فقط |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع