دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 10 | فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

book_icon
فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

الافضل فی البقر ان یؤدی من الذکر التبیع ومن الاثنی التبیعۃ۔[1] واﷲسبحٰنہ وتعالیٰ اعلم۔

ہندیہ میں تتارخانیہ سے عتابیہ سے ہے گائے میں افضل یہ ہے کہ مذکر میں تبیع اور مؤنث میں تبیعہ دیا جائے۔ واﷲسبحانہ، وتعالیٰ اعلم(ت)

مسئلہ ۸۹:           از گونڈہ بہرائچ محلہ چھاؤنی مکان مولوی مشرف علی صاحب      مرسلہ سید حسین صاحب  دامت برکاتہم ۱۳جمادی الاولیٰ ۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں لطف اﷲبہم اجمعین زکوٰۃ کن کن مصارف میں دینا جائز ہے؟ بینواتوجروا۔

الجواب:

مصرفِ زکوٰۃ ہر مسلمان حاجتمند جسے اپنے مال مملوك سے مقدار نصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ پر دسترس نہیں بشرطیکہ نہ ہاشمی ہو،نہ اپنا شوہر ،نہ اپنی عورت ،اگر چہ طلاق مغلظہ دے دی ہو جب تك عدّت سے باہر نہ آئے، نہ وہ جو اپنی اولاد میں ہے جیسے بیٹا، بیٹی، پوتاپوتی، نواسانواسی، نہ وُہ جن کی اولاد میں یہ ہے جیسے ماں باپ ، دادا دادی نانا نانی، اگر چہ یہ اصلی و فروعی رشتے عیاذًاباﷲبذریعہ زنا ہوں، نہ اپنا یا ان پانچوں قسم میں کسی کا مملوك اگرچہ مکاتب ہو ، نہ کسی غنی کا غلام غیر کاتب ،نہ مرد غنی کا نابالغ بچہ ،نہ ہاشمی کا آزاد بندہ ،اور مسلمان حاجت مند کہنے سے کافر و غنی  پہلے ہی  خارج ہوچکے۔ یہ سولہ شخص ہیں جنھیں زکوٰۃ دینی جائز نہیں، ان کے سوا سب کو روا، مثلًاہاشمیہ بلکہ فاطمیہ عورت کا بیٹا جبکہ باپ ہاشمی نہ ہو کہ شرع میں نسب باپ سے ہے۔ بعض متہورین کہ ماں کے سیدانی ہونے سے سیّد بن بیٹھے اور باوجود تفہیم اس پر اصرار کرتے ہیں بحکمِ حدیثِ صحیح مستحقِ لعنتِ الہٰی ہوتے ہیں والعیاذباﷲتعالیٰ وقد اوضحنا ذٰلك فی فتاونا (اﷲتعالیٰ کی پناہ اور ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں خوب واضح کردیا ہے۔ت)اسی طرح غیر ہاشمی کا آزاد شدہ بندہ اگر چہ خود اپنا ہی ہویا اپنے اصول و فروع و زوج و زوجہ ہاشمی کے علاوہ کسی غنی کا مکاتب یا زنِ غنیہ کا نابالغ بچہ اگر چہ یتیم ہویا اپنے بہن بھائی، چچا، پھوپھی، خالہ، ماموں بلکہ انھیں دینے میں دُونا ثواب ہے، زکوٰۃ و صلہ رحم یا اپنی بہو یا داماد یا ماں کا شوہر یا باپ کی عورت یا اپنے زوج یا زوجہ کی اولاد کہ ان سولہ کو بھی دینا روا، جبکہ یہ سولہ،اول سولہ سے نہ ہوں ،ا زانجا کہ انھیں اُن سے مناسبت ہے جس کے باعث ممکن تھا کہ ان میں ہی عدمِ جواز کا وہم جاتا، لہذا فقیر نے انھیں بالتخصیص شمار کردیا اور نصاب مذکورپر دسترس نہ ہونا چندصورت کو شامل:ایك یہ کہ سرے سے مال ہی نہ رکھتا ہو،اسے مسکین کہتے ہیں۔

دوم: مال ہو مگر نصاب سے کم، یہ فقیر ہے۔


 

 



[1] فتاوٰی ہندیہ   الفصل الثالث فی زکوٰۃ البقر نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۱۷۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن