30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب، بیان سابق سے واضح ہولیا کہ اس کے بہت مصارف مثل مساجد و مدارس و طلبہ و علماء یہاں موجود ہیں ان پر صرف کریں اور اگربالفرض لشکر ہی اُس کا مصرف ہوتااور عساکر اسلامیۃ سے کسی تك پہنچانے پر قدرت نہ ملتی جب بھی سقوط کے کوئی معنی نہ تھے، خراج ذمہ مکلف پر واجب ہوتا ہے، عنایہ میں ہے:
|
الخراج فی ذمۃ المالك والعشر فی الخارج۔[1] |
خراج، مالك کے ذمّہ ہے اور عشر پیداوار پر ہوتاہے۔ (ت) |
فتح میں ہے:
|
العشر فی الخارج والخراج فی الذمۃ۔[2] |
عشر،پیداوار پر ہے اور خراج مالك کے ذمہ ہوتا ہے۔(ت) |
اور وُہ ایك حق ثابت معروف مثل ملك و دین ہے
|
حتی لایحل لصاحب ارض خراجیۃ اکل غلتھا قبل اداء خراجھا [3]کما فی التنویر ای فی خراج المقاسمۃ فکانہ کان مالا مشترکا، وللامام حبس الخارج للخراج[4] کمافی الدر،ای فی الخراج الموظف وقد قال فی الھدایۃ الرھن والکفالۃ جائزان فی الخراج لانہ دین مطالب بہ ممکن الاستیفاء فیمکن ترتیب موجب العقد علیہ فیھما۔[5] |
حتی کہ خراجی زمین کے مالك کے لیے خراج کی ادائیگی سے پہلے اس کا غلّہ کھانا حلال نہیں، جیسا کہ تنویر یعنی خراج مقاسمہ میں ہے، گویا یہ مال مشترك ہے اور حاکم کو خراج لینے کے لیے پیداوار کا روك لینا جائز ہے جیسا کہ دُر میں ہے یعنی خراج موظف میں ہے، ہدایہ میں ہے رہن اور کفالۃ خراج میں دونوں جائز ہیں کیونکہ یہ ایسادین ہے جس کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے اور اس کا حصول بھی ممکن ہوتا ہے لہذا تقاضائے عقد کاان دونوں پر مرتب ہونا ممکن ہوگا۔ (ت) |
[1] العنایۃ مع فتح القدیر ، باب العشر والخراج، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ،۵ /۲۸۶
[2] فتح القدیر باب العشر والخراج ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۵ /۲۸۶
[3] تنویرالابصار متن درمختار، باب العشر، مطبع مجتبائی دہلی،۱/۱۳۹
[4] درمختار ، باب العشر ، مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۳۹
[5] الھدایۃ ، کتاب الکفالۃ ، مطبع یوسفی لکھنؤ ، ۳ /۱۱۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع