30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سبب الحقین واحد وھوالارض النامیۃ الا انہ یعتبر فی العشر تحقیقا وفی الخراج تقدیر ا و لھذا یضافان الی الارض۔[1] |
دونوں حقوق عشر و خراج کا سبب ایك ہے اور وُہ ارض نامی ہے، ہاں عشر میں اس کانامی ہونا عملًا اور خراج میں بالفرض ہے، یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کی نسبت زمین کی طرف ہوتی ہے(ت) |
فتح القدیر میں ہے:
|
قال الشافعی یجمع بینھما لان سبب العشر الارض النامیۃ بالخارج تحقیقا وسبب الخراج الارض النامیۃ بہ تقدیرا وقد تحقق سبب کل منھما ولا منا فاۃ بین الحقین فیجبان ولنا ان تعدد الحکم واتحادہ بتعدد السبب واتحادہ وسبب کل من الخراج والعشر، الارض النامیۃ ولھذا یضافان الیھا فیقال خراج الارض وعشر الارض والاضافۃ دلیل السببیۃ وکون الارض مع النماء التقدیری غیرالارض مع التحقیقی مخالفۃ اعتباریۃ لاحقیقۃ فالارض النامیۃ ھی السبب واذا اتحد السبب اتحد الحکم اھ[2] ملتقطا |
امام شافعی فرماتے ہیں کہ ان دونوں کو جمع کیا جاسکتا ہے کہ عشر کا سبب ارض نامی سے عملًا پیداوار اور خراج کا سبب ارض نامی سے پیداوار کا امکان ہے اور یہاں دونوں کا سبب متحقق ہے اور دونوں کے حقوق میں منافات بھی نہیں لہذا دونوں واجب ہوں گے، ہماری دلیل یہ ہے کہ حکم کا متعدد اور واحد ہونا سبب کے متعدد اور واحد ہونے پر موقوف ہے، خراج و عشر کاسبب ارض نامی ہے اسی لیے زمین کی طرف ان کی نسبت کرتے ہوئے کہا جاتا ہے، زمین کا خراج، زمین کا عشر اور کسی کی طرف اضافت اس کے سبب ہونے پر دلیل ہے۔ زمین کا ا مکانی نمو پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس کا ایسی زمین کا غیر ہونا جو واقعۃً نمو پر مشتمل ہے ، یہ اعتباری طور پر ہے، یہاں حقیقۃً مخالفت نہیں تو ارض نامی ہی سبب قرار پائے گی، تو جب سبب ایك ہے تو حکم بھی ایك ہی ہوگا اھ اختصارًا(ت) |
ہنوز بعض وجوہ اور ذہن فقیر میں ہیں کہ بخوفِ اطالت ترك کیں وفیما ذکر نا کفایۃ واﷲ ولی الھدایۃ (ہم نے جو ذکر کیا یہ کافی ہے اﷲتعالیٰ ہی ہدایت کا مالك ہے۔ت)کسے دیں، اس کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع