30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے:
|
ھذا عند ابی یوسف واعتبر محمد الماء فان احیاھا بماء الخراج فخراجیۃ والا فعشریۃ بحر وبالاول یفتی، درمنتقی۔[1] |
یہ امام ابویوسف کے نزدیك ہے، امام محمد نے پانی کا اعتبار کیا ہے، اگر مسلمان نے زمین، خراجی پانی سے آباد کی ہے تو وُہ خراجی ہوگی ورنہ عشری، بحر۔ فتوٰی پہلے قول پر ہے،درمنتقی۔ (ت) |
اُسی میں ہے:
|
وھو مامشی علیہ المصنف اولا کالکنز وغیرہ وقد مہ فی متن"الملتقی" فافاد بتر جیحہ علی قول محمد وقال ح وھو المختار کما فی الحموی علی الکنز عن شرح قراحصاری وعلیہ المتون۔[2] |
یہی وُہ ہے جس پر پہلے مصنّف چلے مثلًا کنز وغیرہ۔ اور ملتقی کے متن میں اسے مقدم کیا ہے۔ یہ اس بات کو مفید ہے کہ انہوں نے اسے امام محمد کے قول پر ترجیح دی ہے اور ح نے کہا کہ یہی مختار ہے جیسا کہ حموی علی الکنز میں شرح قراحصاری کے حوالے سے ہے، اور متون اسی پر ہیں۔(ت) |
معہذا اگر تخصیص مان بھی لیجئے تو لشکر اسلام کا ید قبضہ پانی پر وارد ہونا ابتداءً اس کی خرجیتکا مفید ہوطکا ، بقاءً بھی خراجیت، بقاءً ید پذیر پر موقوف رہنے کی کیا دلیل ہے ، اور پُر ظاہر کہ ہمارا کلام بقاء میں ہے :
|
الا تری ان الخراج یجب عقوبۃ الا الکفر ثم لا یحتاج فی بقائہ حتی لو اسلموا لم یسقط الخراج عن اراضیھم کما نصوا علیہ قاطبۃ |
( آپ جانتے ہیں کہ خراج کفر کی سزاکے طور پر واجب ہوتا ہے پھر اپنی بقاء میں اس کا محتاج نہیں حتٰی کہ اگر کافر مسلمان ہوگئے تو ان کی زمینوں سے خراج ساقط نہ ہو گا جیسا کہ اس پر فقہاء نے قطعی تصریح کی ہے۔ ت) |
بالجملہ جہاں تك نظر کی جاتی ہے یہاں کی اُن زمینوں سے جن کا خراجی ہونا بہ ثبوت شرعی ثابت ہولیا بلاوجہ شرعی وجوب خراج کا اُٹھ جانا ثابت نہیں ہوتا اور کیونکر ثابت ہو حالانکہ خراج کے لیے سبب وجوب ارض نامیہ ہے اور وہ حاصل تو وجوب بھی حاصل، ہدایہ مسئلہ عدم اجتماع عشرو خراج میں فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع