30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قولہ (لان المؤنۃ فی مثل ھذا تدورمع الماء)(وجب علی المسلم العشر اذا سقی ارضہ بماء الخراج )اھ [1] وجہ السقوط ان الکلام ھٰھنا فی الذمی و مامر من دوران المؤنۃ مع الماء انما کان فیما فیہ ابتداء التوظیف علی المسلم فلا مساغ للتناقض اصلا ولا حاجۃ الیٰ تجشم الجواب بما قال ان الاعتبار للماء ولکن قبول المحل شرط وجوب الحکم والکافر لیس بمحل لایجاب العشر علیہ لکونہ عبادۃالخ [2]وکیف ماکان فمقصودنا حاصل وھو بطلان تخصیص الخراج بالماء الخراج اما مطلقا واما فیما لم یتقرر امرھا علی وظیفۃ نعم ھو صحیح عند صاحب المذہب فیما فیہ بدء التوظیف علی مسلم فقط۔ |
اس قول سے تضاد لازم آئیگا کہ"ایسی صورت میں وظیفہ کے تعیّن کے لیے پانی کا اعتبار کیا جاتا ہے"اور مسلمان پر عشر لازم ہوتا ہے جب وہ اپنی زمین کو خراجی پانی سے سیراب کرتا ہو"اھ۔ وجہ سقوط یہ ہے کہ یہاں گفتگو ذمی میں ہورہی ہے، اور جو گزرا ہے کہ تعین وظیفہ میں پانی کا اعتبار ہے، وہ اس صورت میں ہے جب ابتداء کسی مسلمان پر وظیفہ کا تعین کرنا ہو تو یہاں تناقض کا ثبوت ہی نہیں ہوا لہذا یہ کہہ کر جواب میں تکلّف کی ضرورت نہیں، کہ اعتبار تو پانی کا ہی ہوتا ہے مگر وجوبِ حکم کے لیے محل کا قبول کرنا شرط ہے اور کافر ایجابِ عشر کا محل نہیں کیونکہ عشر ادا کرنا عبادت ہے الخ بہر حال ہمارا مقصد حاصل ہے وہ یہ کہ خراج پانی کے ساتھ خراج کو مخصوص کرنے کا بطلان ہے،یا تو ہر حال میں یا اس صورت میں جب زمین پر کسی وظیفہ کا تقرر نہ ہواہو، ہاں یہ صاحبِ مذہب کے نزدیك اس وقت فقط صحیح ہے جب کسی مسلمان پر ابتداءً وظیفہ کاتقرر کرنا ہو۔(ت) |
پھر مفتیٰ بہ یہ ہے کہ یہاں بھی پانی کا اعتبار نہیں بلکہ قرب دیکھیں گے اگر زمین خراجی سے نزدیك ہے خراج ہوگا اگر چہ آب عشری دیا ہو،اور عشری سے توعشر اگرچہ پانی خراج کا ہو۔ تنویر میں ہے:
|
لو احیاہ مسلم اعتبر قربہ۔[3] |
اگر کسی مسلمان نے زمین کو آباد کیا تو وہاں اس کے قریب زمین کا اعتبار کیا جائیگا۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع