30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پانی عشری دیا ہو، فتح القدیر و تبیین الحقائق و بحرالرائق وغیرہا میں ہے:
|
لو احیا ھا ذمّی کانت خراجیۃ سواء سقیت عند محمد بماء السما ونحوہ او لا وسواء کانت عند ابی یوسف من حیز ارض الخراج اوالعشر اھ [1] فظہر ضعف ما انتحاہ فی العنایۃ تبعا للنھا یۃ رکونا الیٰ ظاہر نقل فی الھدایۃ علی خلاف نقل فی الغایۃ کما بینہ المحقق فی الفتح واﷲ ولی الھدایۃ والفتح۔ |
اگر کسی ذمی نے زمین کو آباد کیا تو وُہ خراجی ہوگی خواہ آسمانی پانی وغیرہ سے سیراب ہو یا نہ ہواور امام ابو یوسف کے نزدیك خواہ خراجی کے قریب ہو یا عشری کے قریب اھ اس سے اس کا ضعف ظاہر ہوگیا جو عنایہ میں نہایہ کی اتباع کرتے ہُوئے میلان کیا ہے ہدایہ میں نقل ظاہر کی طرف اور وُہ نقل غایۃکے خلاف ہے جیسا کہ محقق نے فتح میں کیا، اور اﷲتعالیٰ ہی ہدایت اور فتح کا مالك ہے۔ (ت) |
تصریح فرمائی مسئلہ اعتبار آب مطلق نہیں، ہدایہ میں فرمایاتھا:
|
اذا کانت لمسلم دار خطۃ فجعلھابستانا فعلیہ العشر معناہ اذا سقاھا بماء العشر واما اذا کانت تسقی بماء الخراج ففیھا الخراج لان المؤنۃ فی مثل ھذا تدور مع الماء۔[2] |
جب بطور قبضہ کسی مسلمان کی خالی زمین پر گھر بنایا پھر اسے اس نے باغ بنادیا تو اس پر عشر ہوگا، اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جب وُہ عشری پانی سے سیراب ہوتا ہو اور جب وہ خراجی پانی سے سیراب ہوتو اس میں خراج ہوگا کیونکہ ایسی صورتوں میں عشر و خراج کا معاملہ پانی کے ساتھ ہے۔ (ت) |
اس پر عنایہ میں لکھا ہے:
|
معنی قولہ"فی مثل ھذا"الارض التی لم یتقرر امرہ علی عشر او خراج وھو احتراز عما اذا کان لمسلم ارض تسقی بماء العشر وقد اشتراھا ذمی فان ماء ھا عشری وفیہ الخراج۔ [3] |
ماتن کے قول"فی مثل ھذا"سے مرادوہ زمین ہے جس کا معاملہ عشر و خراجی کے اعتبار سے مستحکم نہ ہوا ہو، اس سے اس صورت سے احتراز ہوگیا جب کسی مسلمان کی ایسی زمین تھی جو عشری پانی سے سیراب ہوتی تھی اور اسے ذمی نے خرید لیا تو اب اس کا پا نی عشری ہے لیکن اس میں خراج ہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع