30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام محقق زیلعی نے تبیین الحقائق میں فرمایا:
|
ھذا التفصیل فی حق المسلم اما الکافر فیجب علیہ الخراج من ای ماء سقی لان الکافر لا یبتدأبالعشرفلا یأتی فیہ التفصیل فی حالۃ الابتداء اجماعا۔ [1] |
یہ تفصیل حقِ مسلم میں ہے،رہا کافر کا معاملہ تو اس پر خراج ہوگا خواہ جو پانی بھی سیراب کرے کیونکہ کافر پر ابتداءً عشر نہیں ہوتا لہذا ابتداءً اس میں بالاتفاق تفریق و تفصیل نہیں ہوگی۔ (ت) |
اسی طرح بحرالرائق و مجمع الانہر میں اس سے نقل کیا اور مقرر رکھا، ولہذا علامہ حلبی نے متن متین ملتقی الابحر میں اُن زمینوں کو خراجی ہونے کا مسئلہ مطلق رکھاارض السواد خراجیۃ (سواد کی زمین خراجی ہے۔ت)کے بعد فرمایا:
|
وکذا کل مافتح عنوۃ واقر اھلھا علیہ اوصولحو اسوی مکّۃ۔[2] |
اسی طرح ماسوائے مکّہ کے وُہ زمین جو بطور غلبہ فتح ہُوئی اور اس کے باشندوں کو وہاں قابض رکھایا ان سے صلح کرلی گئی۔ (ت) |
اور اصلًاخلاف کا ذکر نہ کیا حالانکہ انہیں التزام ہے کہ جس مسئلہ میں ائمہ ثلٰثہ مذہب سے کسی کا خلاف ہو ضرور نقل کریں گے۔
|
قال فی خطبتہ وصرحت بذکرالخلاف بین ائمتنا الخ[3] |
علامہ حلبی نے خطبہ کتاب میں فرمایا ہمارے ائمہ کے درمیان اگر کسی مسئلہ میں اختلاف ہوگا تو میں اس کی تصریح کروں گا۔ (ت) |
اسی طرح متن جلیل کنز میں مطلق فرمایا:
|
فتح عنوۃ و اقر اھلہ علیہ اوفتح صلحا خراجیۃ۔ [4] |
وُہ زمین جوبطور غلبہ حاصل ہُوئی اور وہاں کے قابضین کو بر قرار رکھایا بطور صلح فتح ہُوئی تو وہ خراجی ہوگی۔(ت) |
اور خلاف کی طرف با وصف التزام رمز ایما نہ کیا یُونہی جو زمین ذمی نے احیا کی بالاتفاق خراجی ہے اگرچہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع