30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قہرًا خواہ صلحًافتح کیں اور ان کے اہل کو اُن پر برقرار رکھا یا قہرًافتح کرکے اور جگہ کے کافروں کو دے دیں اُن پر یقینا خراج ہے اگر چہ انھیں آب عشری مثل باران وغیرہ سے پانی دیا جاتا ہو۔ محققین تصریح فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ ہمارے ائمہ کا اجماعیہ ہے۔ محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا:
|
نحن نقطع ان الارض التی اقر اھلھا لو کانت تسقی بعین اوبماء السماء لم تکن الاخراجیۃ لان اھلھا کفارواکفار لو انتقلت الیھم ارض عشریۃ و معلوم ان العشریۃ قد تسقی بعین او بماء الساء لاتبقی علی العشریۃ بل تصیر خراجیۃ فی قول ابی احنیفۃ وابی یوسف خلافا لمحمد فکیف یبتدأ الکافر بتوظیف العشرثم کونھا عشریۃ عند محمد اذا انتقلت الیہ کذلك امافی الابتداء فھو ایضا یمنعہ۔[1] |
ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ جس زمین پر اس کےا ہل برقرار رہے اگر چہ وہ چشمہ یا آسمانی پانی سے سیراب ہوتی ہو تو وُہ خراجی ہی ہوگی کیونکہ اس کے مالك کافر ہیں اور کافر کی طرف اگرچہ عشری زمین منتقل ہو اور یہ بات معلوم ہوکہ اگر عشری زمین کو چشمہ یا آسمانی پانی سے سیرب کیا جاتا ہے تو وہ عشری نہ رہے گی بلکہ وُہ امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کے قول کے مطابق خراجی ہوجائے گی، ہاں امام محمد کا اس میں اختلاف ہے، تو اب کافر پر ابتدائی طور پو عشر کیسے مقرر کیا جاسکتا ہے، پھر امام محمد کے نزدیك جب عشری زمین کسی کافر کی طرف منتقل ہوگی تو وہ عشر ہی رہے لیکن ابتداءً وُہ بھی کافر پر عشر سے منع کرتے ہیں۔(ت) |
بحرالرائق میں ہے:
|
وقد اطال المحقق فی فتح القدیر فی تقریرہ ثم قال والحاصل ان التی فتحت عنوۃ ان اقر الکفار علیہا لا یوظف علیہم الاالخراج ولوسقیت بماء المطر وان قسمت بین المسلمین لا یوظف الا العشر وان سقیت بماء الانھار۔[2] |
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں بڑی طویل گفتگو کرکے کہا کہ حاصل یہ ہے کہ جو زمینیں بطور غلبہ حاصل ہوں اگر کفار کو ہی ان پر قابض رکھا تو اب ان پر خراج ہی مقرر کیا جائیگا اگر چہ وہ بارش سے سیراب ہوتی ہوں، اور اگر وُہ زمینیں مسلمانوں میں تقسیم کردی گئیں تو ان پر عشرہی مقرر کیا جائیگا اگر چہ وہ نہر ی پانی سے سیراب کی جاتی ہوں۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع