30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بنفسہ الخ۔[1] |
مالك سے کہا جائیگا کہ خود ادا کردے۔ (ت) |
ایجاب خراج میں لشکرِ اسلام کا حق اور اس کی حمایت پر تقرر معاوضہ ضرور منظورِ نظرِ شرع ہے مگر اس سے وجود حمایت کا شرط وجوب ہونا لازم نہیں، تصریحات ائمہ سے واضح ہو لیا کہ خراج صرف انہی کے لیے مقرر نہ ہُوا بلکہ جمیع مصالح عامّہ اہلِ اسلام اس میں متساویۃ الاقدام، ہاں جہاں حمایت ہو ان کا بھی حق ضرور ہے اور جہاں اُن کا حق ہو وہی معاوضہ منظور ہے، بالجملہ ادھر سے کلیہ ہے یعنی حیثما وجدت الحمایۃ وجبت الجبایۃ ( جہاں حمایت ہوگی وہاں خراج لازم ہوگا۔ت) اُدھر سے نہیں کہ حیث ما وجبت الجبایۃ وجدت الحمایۃ (جہاں خراج ہوگا وہاں حمایت ہوگی۔ت) تاکہ اس کا عکس نقیض کیجئے کلما لم توجد الحمایۃ لم توجب الجبایۃ (جب حمایت نہ ہوگی تو خراج لازم نہ ہوگا۔ت) فتح القدیر کی عبارت مذکور کا منشاء اسی قدر ہے البتہ عبارتِ عنایہ میں لفظ یختص موہم واقع ہوا ہے اور وُہ قطعًا زائد بے حاجت محض بلکہ خلافِ مقصود ہے ،
|
وذلك لان محمد ارحمہ اﷲصرح فی الزیادات ان المسلم لا یبتدأبتوظیف الخراج [2]ثم وقع بینھم الخلاف فیما اذا احیا مسلم مواتا فقال ابویوسف تعتبر بحیزھا ای بما یقرب منھا فان کانت من حیز ارض الخراج فخراجیۃ اوارض العشر فعشریۃ لان القرب من اسباب الترجیح وقال محمد ان کان صفتھا انھا یصل الیھا ماء الانھار فخراجیۃ او ماء عین ونحوہ فعشریۃ کل ذلك فی الفتح [3]وقد لزم من ھذا توظیف |
یہ اس لیے کہ امام محمد رحمہ اﷲتعالیٰ نے زیادات میں تصریح کی ہے کہ مسلمان پر ابتداءً خراج نہیں آسکتا ،پھر ان ائمہ کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ جب کسی مسلمان نے غیر آباد زمین کو آباد کیا، امام ابو یوسف نے فرمایا اس کے قُرب کا اعتبار کیا جائیگا،اگر خراجی کے قریب ہے تو خراجی، اگر عشری کے قریب ہے تو عشری، کیونکہ قرب اسبابِ ترجیح میں سے ہے۔ امام محمد نے فرمایا اگر اسے نہری پانی سیراب کرتا ہو تو خراجی، اور اگر چشمہ وغیرہ کا پانی ہوتو عشری۔ یہ تمام تفصیل فتح میں ہے ۔بعض کے گمان کے مطابق اس سے مسلمان پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع