30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اُسی کے اواخر باب زکوٰۃ الزروع میں ہے:
|
الخراج یجب حقاللمقاتلۃ فیختص وجوبہ بما حمتہ القاتلۃ۔ [1] |
خراج حق مقاتلہ کے طور پر لازم ہوتا ہے لہذا یہ اسی کے ساتھ مخصوص رہے گا جو مقاتلہ کے تحت ہوگا۔(ت) |
یہ کلمات بظاہر سقوطِ خراج کی طرف ناظر مگر نظردقیق حاکم، کہ نفس وجوب ثابت و قائم، مطالبہ سلطنت و وجوب دیانت میں فرق بعید ہے، بہت چیزیں ہیں کہ سلطان کو اُن کا مطالبہ نہیں پہنچا اور شرعًا واجب ہ
|
کزکوٰۃ الاموال الباطنۃ کما فی الدر وغیرہ عامۃ الاسفار وقد قال الشامی عن البحر وغیرہ فی مسئلۃ اسلام الحربی فی دارالحرب بعد العبارۃ المذکوۃ ونفتیہ بادائھا ان کان عالما بوجو بھا والّا فلا زکوٰۃ علیہ لان الخطاب لم یبلغہ وھو شرط الوجوب اھ [2] |
جیسے اموالِ باطنہ کی زکوٰۃ جیسا کہ در اور دیگر کتب میں ہے، شامی نے بحر وغیرہ کے حوالے سے دارالحرب میں کسی حربی کے اسلام لانے کے بارے میں گفتگو کرتے ہُوئے عبارت مذکورہ کے بعد کہا، کہ اگر وُہ حربی مسلمان وجوب زکوٰۃ کا علم رکھتا ہے ہم اسکی ادائیگی کا فتوٰی دینگے ورنہ اس پر زکوٰۃ ہی نہیں کیونکہ اسے ایسا حکم ہی نہیں پہنچا جو وجوب کے لیے شرط ہے اھ(ت) |
ولہذا صورت مذکورہ عدم تسلط میں تصریح فرمائی کہ متغلبین اگر زکوٰۃ و عشر لے کر ان کے مصارف میں سبب نہ کریں تو اربابِ اموال پر اُن کا دوبارہ دینا واجب ہے اور خراج میں جو اعادے کی حاجت نہیں اس کا سبب یہ کہ وہ متغلبین خود بھی ایك اسلامی لشکر کی حیثیت سے اُس کے مصرف ہیں تو خراج اپنے محل کو پہنچ گیا
|
فی الدرالمختار، اخذ البغاۃ والسلاطین الجائرۃ زکوٰۃ الاموال الظاھرۃ کا لسوائم والعشر و الخراج لا اعادۃ علی اربابھا،ان صرف الما خوذ فی محلہ الاٰتی ذکرہ والا یصرف فیہ فعلیہم فیما بینھم وبین اﷲتعالیٰ اعادۃ غیرالخراج لانھم مصارفہ۔ [3] |
درمختار میں ہے اگر باغیوں اور ظالم حکمرانوں نے اموال ظاہرہ کی زکوٰۃ وصول کرلی مثلًا چارپایوں کی زکوٰۃ، یا عشرہ خراج وصول کرلیا تو اب مالکوں سے دوبارہ نہیں لیا جائیگا(بشرطیکہ ان کی جگہ خرچ کیا گیا جن کا ذکر آرہا ہے) اور اگر وہاں خرچ نہیں کیا تو مالکوں پربطور دیانت عشرہ زکوٰۃ کا اعادہ لازم ہے خراج کا نہیں کیونکہ باغی لشکر خود خراج کا مصرف ہیں۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع