30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورشك نہیں کہ جب مصرف نہ باقی ہو، مطالبہ کس کے لیے ہو ولہذا ہمارے امام کے نزدیك عاشر تاجر سے خربوزے، کھیرے،ککڑی وغیرہا جلد بگڑ جائے والی پیداوار کا عشر نہ لے گا جبکہ فقراء موجود نہیں کہ مصرف ہی نہیں اور وُہ اشیاء رکھنے سے بگڑ جائیں گی، تو مطالبہ عبث ہے۔
|
فی الفتح قبیل باب المعادن، من مربرطاب اشتراھا للتجارۃ کا لبطیخ والقثاء و نحوہ لم یعشرہ عند ابی حنیفۃ فانھا تفسد بالا ستبقاء و لیس عند العامل فقراء فی البر لید فع لھم فاذا بقیت لیجد ھم فسدت فیفوت المقصود اھ [1] مختصرًا۔ |
فتح میں باب المعادن سے تھوڑا پہلے ہے، کہ جو شخص سبزیوں کے کھیت کے پاس سے گزرا اس نے تجارت کے لیے انھیں خریدا مثلًا خربوزہ اور کھیرا وغیرہ، تو اب امام ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیك اس پر عشر نہ ہوگا کیونکہ وہ باقی رکھنے سے خراب ہوجاتی ہیں، اور عامل کے پاس جنگل میں فقراء نہیں ہوتے جنہیں وُہ عشر دے دے، اور اگر انھیں فقراء کے پانے کے لیے باقی رکھتا ہے تو وہ خراب ہوجاتے ہیں تو اس سے مقصود فوت ہوجاتا اھ اختصارًا(ت) |
بلکہ علماء نے تصریح فرمائی کہ کل خراج کا وجوب ہی لشکرِ اسلام کے حق کے لیے اور ان کی حمایت کا معاوضہ ہے ۔ فتح القدیر ، کتاب السیر ، باب العشر میں ہے:
|
الخراج جزاء المقاتلۃ علی حمایتھم فما سقی بما احموہ وجب فیہ اھ۔ [2] |
خراج لشکرِ اسلام کی حمایت کا معاوضہ ہے، جو زمین ان کی حمایت سے سیراب ہوگی اس میں خراج واجب ہوگا اھ(ت) |
عنایہ میں اسی جگہ ہے:
|
الخراج یجب جبر ا للمقاتلۃ فیختص وجوب الخراج بما یسقی بماء حمتہ المقاتلۃ(الیٰ قولہ) الی ھذا اشار شمس الائمۃ اھ [3] |
خراج، مقاتلہ کے نقصان کو پُورا کونے کے لیے ہوتاہے لہذا خراج انہی زمینوں کے ساتھ مخصوص ہوگا جو لشکر کی حمایت کے تحت سیراب ہوں گی( آگے چل کر کہا)شمس الائمہ نے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع