30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی العنایۃ تحت مسئلۃ شراء ذمّی،عشریۃ من مسلم، فی توجیہ روایۃ عن محمد حق الفقراء تعلق بہ فھو کتعلق حق المقاتلۃ بالاراضی الخراجیۃ ثم قال فی توجیہ اخری، ما یصرف الی الفقراء ھو ماکان ﷲ تعالٰی بطریق العبادۃ و مال الکافر لیس کذلك فیصرف فی مصارف الخراج[1] وفی الدرالمحتار عن ابن الشحنۃ فی نظم بیوت المال ع وثالثھا خراج مع عشور الی ان قال: فمصرف الاولین اتی بنص وثالثھا حواہ مقاتلونا اھ [2]وفی الفتح والعنایۃ وغیرھما قبیل باب الجزیۃ، مصرف العشر الفقراء و مصرف الخراج المقاتلۃاھ [3] وقد اعترض فی الفتح فی المسألۃ المارۃ علی جعل العشریۃ بشراء الذمّی خراجیۃ، بان التغییر ابطال لحق الفقراء بعد تعلقہ فلا یجوز الخ۔ [4] |
عنایہ میں اس مسئلہ"ذمی نے کسی مسلمان سے عشری زمین خریدی"کے تحت امام محمد رحمہ اﷲ سے مروی روایت کی توجیہ میں ہے کہ فقراء کا اس کے ساتھ حق متعلق ہے، پس یہ اسی حق کی طرح ہے جس طرح خراجی زمینوں کے ساتھ حق مقاتلہ کا تعلق ہوتا ہے پھر دوسری توجیہ کرتے ہُوئے کہا کہ جو کچھ فقراء پر خرچ کیا جاتا ہے وہ اﷲتعالیٰ کے لیے بطور عبادت ہوتا ہے اور مالِ کافر میں یہ بات نہیں ہوتی لہذا اسے مصارف خراج میں ہی خرچ کیا جائے گااور درمختار میں ابن شحنہ سے بیوت المال کی نظم میں ہے: اور تیسری قسم خراج مع عشر ہے۔ آگے چل کر کہا: پہلی دونوں کے مصارف ہمارے نص میں موجود ہیں اور تیسری کا مصرف ہمارے مقاتلہ(لشکرِ اسلام) ہوتے ہیں۔ اھ اور فتح اور عنایہ میں باب الجزیہ سے تھوڑا پہلے ہے کہ عشر کا مصرف فقراء اور خراج کا مصرف مقاتلہ کرنیوالے (لشکرِ اسلام) ہوتے ہیں اھ فتح میں گزشتہ مسئلہ کہ عشری زمین کا ذمّی کے خریدنے سے خراجی ہونے پر اعتراض کیا ہے کہ زمین کے ساتھ فقراء کا حق متعلق ہونے کے بعد تغیّر ان کے حق کو باطل کردیتا ہے جو جائز نہیں الخ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع