30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی المزارعۃ ان کان البذرمن رب الارض فعلیہ ولو من العامل فعلیھما بالحصۃ[1]فی ردالمحتار تحت قولہ وفی المزارعۃ الخ ما ذکرہ الشارح ھو قولھما اقتصر علیہ لما علمت ان الفتوی علی قولھما بصحۃ المزارعۃ لکن ما ذکر من التفصیل یخالفہ مافی البحر والمجتبیٰ والمعراج والسراج والحقائق والظہیریۃ وغیرہا من ان العشرعلی رب الارض عندہ وعلیھا عند ھما من غیر ذکر ھذاالتفصیل وھو الظاہر لما فی البدائع من ان المزارعۃ جائزۃ عند ھما والعشر یجب فی الخارج والخارج بینھما فیجب العشر علیھما الخ۔ [2] |
میں صاحبین کا قول لیتے ہیں اور مزارعت میں اگر بیج زمین کے مالك کا ہے تو اس پر عشر ہے اور اگر عامل کا ہے تو حصّہ کے مطابق دونوں پر ہوگا،ردالمحتار میں ماتن کے قول"وفی المزارعۃ الخ"کے تحت یہ شارح نے جو کہا یہ صاحبین کا قول ہے،اور اس پر اکتفاء کی وجہ آپ جان چکے کہ صحتِ مزارعت کے بارے میں صاحبین کے قول پر فتوٰی ہے لیکن جو تفصیل میں بیان ہُوا وہ اس کے مخالف ہے، جوبحر، مجتبٰی، معراج،سراج، حقائق، ظہریہ وغیرہ میں ہے کہ امام صاحب کے نزدیك عشر مالك زمین پر ہے اور صاحبین کے نزدیك دونوں پر ہے مگر تفصیل کا ذکر نہیں، اور عشر پیداوار میں واجب ہے اور پیداوار دونوں کے درمیان تقسیم ہوگی لہذا عشر دونوں پر ہوگا الخ(ت) |
بالجملہ: قول دوم بھی ضعیف نہیں اور ہمارے بلادمیں وہی ارفق بالناس ہے یہاں اجرتیں بلحاظ عشر ہرگز مقرر نہیں ہوتیں، اگر پیداوار کا عشر اُجرت سے دلائیں تو غالبًاکچھ نہ بچے بلکہ بہت جگہ عشر ہی میں گھر سے دینا پڑے باقی مصارف دیہی و مالگزاری انگریز جُدارہےـ اور اگر اس پر مجبور کیجئے کہ اب وہ اجرتیں مقرر کر لیجئے کہ عشر و مالگزاری و جملہ مصارف دے کر تمھارے لیے بقدر کفالت بچے تو یہ ہرگز میسر نہیں، مزار عین اس پر کیوں راضی ہونے لگے ۔
|
وفی نزع الناس عن عاداتھم حرج والحرج مدفوع بالنص لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىہَا ؕ سَیَجْعَلُ اللہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا ٪﴿۷﴾[3]وھذا کما ذکر العلامۃ الشامی رحمہ اﷲ تعالیٰ فی اوقاف |
لوگوں کو ان کی عادت سے روکنا حرج ہے اور حرج کا مد فوع ہونا نص سے ثابت ہے۔ ارشاد باری ہے اﷲتعالےٰ ہر نفس کو اتنی تکلیف دیتا ہے جتنا اسے عطا فرمایا عنقریب اﷲتعالیٰ دشواری کے بعد |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع