30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرعی سے ثابت نہ ہو۔ کما حققناہ بتوفیق اﷲتعالیٰ فی فتاوٰ نا بمالا یتجاوز الحق عنہ (جیسا کہ ہم نے اﷲتعالیٰ کی توفیق سے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے جس سے حق متجاوز نہیں۔ت)بلکہ وہ عشری ہیں یا نہ عشری نہ خراجی، اور دونوں صورتوں میں ان کا وظیفہ عشرہے۔
|
اماعلی الاول فظاہر واماعلی الثانی فکما حققہ فی ردالمحتار خلافا لما فی التحفہ المرضیۃ ثم الشرنبلالیۃ ثم الدرالمختار وما حققہ واضح نفیس، والدر ،انماعزاہ للشرنبلالی و الشر نبلالی لصاحب التحفۃ عن العلامۃ صاحب البحر ، فالیہ دار فیہ الامر ، وھو رحمہ اﷲتعالیٰ وما فی التحفۃ لم یستند فیہ النقل انما اعتمد علی عدم رؤیتہ نقلا بلزوم العشرفیہ وانت تعلم ان عدم الرویۃ لیست رؤیۃ العدم ولا عدم النقل نقل العدم والنصوص مطلقۃ، والعشریجب فیما لیس بعشر ولا خراجی کا لمفاوز والجبال ۔اقول: ومعنی کون مافتحناہ فا بقیناہ لنا الی یوم القیامۃ من دون ان نعطیھا ملا کھا او کفارا اخرین اونقسمھا بین الغانمین وکذا مامات ملا کہا فالت لبیت المال، ان العشر والخراج انما یوجب حقا للمسلمین وھذہ قد کانت اوصارت لھم فلا وجہ لان یوجب شئی لھم |
پہلی صورت میں تومعاملہ واضح ہے اور دوسری صورت میں بھی عشر ہے جیسا کہ ردالمحتار میں اس کی تفصیل ہے البتہ تحفہ مرضیہ پھر شرنبلالیہ پھر درمختار کا اس میں اختلاف ہے اور صاحب درمختار کی تحقیق نہایت نفیس ہے، در نے شرنبلالی اور شرنبلالی نے صاحبِ تحفہ سے اور وہاں علامہ صاحبِ بحر کی طرف منسوب ہے، اور معاملہ کی بنیاد یہاں یہی ہے اور مذکور شیخ رحمہ اﷲتعالیٰ نے اور جو کچھ تحفہ میں ہے اس کے نقل پر کوئی دلیل نہیں، اس پر اعتماد صرف اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ ایسی زمین میں عشر کے لازم ہونے پر کوئی روایت ہماری نظر سے نہیں گزری اور آپ جانتے ہیں کہ عدمِ رؤیتِ، رؤیتِ عدم نہیں ہوتی۔ عدمِ نقل ، نقلِ عدم نہیں۔ حالانکہ نصوص مطلق ہیں، اور جو زمین نہ عشری ہو اور نہ خراجی وہاں عشر لازم ہوتاہے جیسا کہ جنگل اور پہاڑ ۔ اقول: اس عبارت کہ"ہم نے زمین کی فتح کی اور اسے تا قیامت اپنے لیے رکھا"کامعنی یہ ہے کہ اسے مالکوں کو واپس نہ دیا یا دیگر کفار کو نہ دی یا بطورِ غنیمت اسے لشکر یوں میں تقسیم نہ کیا اسی طرح وہ زمین جس کا مالك فوت ہوگیا اور وُہ بیت المال کی ہوگئی کیونکہ عشر اور خراج مسلمانوں کے حق کی وجہ سے لازم ہوتا ہے۔ یہ مذکورہ زمیں یا تو ہے ہی مسلمانوں کی یا ان کی طرف لوٹ آئے گی ، لہذا مسلمانوں کے لیے ان پر کوئی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع