30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قدس سرہ السری ما نصہ بالعجمیۃ زمین ہندوستان درابتدائے فتح مانند سواد عراق کہ در عہد حضرت فاروق رضی اﷲتعالیٰ عنہ مفتوح شدہ بود موقوف بر ملك بیت المال است وزمینداراں را بیش از تولیت و داروغگی تر ددو فراہم آوردن مزارعین واعانت وزراعت وحفظ دخلے نیست چنانچہ لفظ زمیندار نیز اشعارے بآں می کند و تغیر و تبدل زمینداری عزل و نصب زمینداران و اخراج بعضے از آنہاواقرار بعضے وعطائے آراضی بافغاناں و بلوچاں و سادات وقدوائیاں بصیغہ زمینداری دلالت صریحہ بریں می کند پس دریں صورت جمیع اراضی ہندوستان مملوك بیت المال گشت و بعقد مزار عت علی النصف اواقل منہ دردست زمینداران [1] فھذا صریح فیما استظھرنا ہ من ان الفاتحین لم یقسموھا ملکا للمسلمین و الحکم فیہ ما بیناہ وذکر رحمہ اﷲتعالیٰ فی سوادالعراق فمختارالائمۃ الشافعیۃ کما بینہ فی ردالمحتار اما عند نا فممنون بھا علی اھلھا ولا یضرنا الکلام فی التمثیل فعلی ھذا مابایدی المسلمین |
سے نقل کیا جو فارسی الفاظ میں یُوں ہے: ہندوستان کی زمین ابتداءً اسی طرح فتح ہوئی جس طرح عراق کی زمین حضرت فاروق اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے دور میں فتح ہُوئی تھی، یہ بیت المال کی ملکیت میں بطور وقف رہے گی اور زمینداروں کا اس سے زیادہ دخل نہیں کہ وہ ان زمینوں کے متولی، منتظم، مزارعین مہیا کرنے اور بیت المال کے لیے تعاون وزراعت اور نگرانی کرنیوالے ہیں، جیسا کہ لفظ زمیندار بھی اس کی طرف اشارہ کررہا ہے، زمینداری میں تغیر و تبدل، اور انھیں معزول و مقرر کرنا، ان میں سے بعض کا رکھنا اور بعض کا نکالنا، افغانیوں، بلوچوں،سادات اور قدوائیوں کو لفظ زمینداری کے ساتھ بعض زمینوں کا دینا بھی اسی پر تصریح ہے لہذا اس صورت میں ہندوستان کی تمام زمین بیت المال کی ملکیت ہے، نصف یا اس سے اقل پر مزارعت کے عقد کے ذریعے زمیندار کے قبضہ میں ہوگی۔یہ تمام اس پر تصریح ہے جیسے ہم نے اختیار کیا کہ فاتحین نے جن زمینوں کو نہ تقسیم کیا نہ وہاں کے باشندوں کو دیں بلکہ انھیں مسلمانوں کی ملکیت میں رکھا تو ان کا وہی حکم ہے جو ہم نے بیان کر دیا ہے ، اور مذکور شیخ رحمہ اﷲتعالیٰ نے عراق کی زمین کے بارے میں جو کہا تو یہ ائمہ شوافع کا مختار ہے جیسا کہ ردالمحتار میں بیان ہوا ہے اور ہمارے نزدیك تو وہ زمین وہاں کے باشندوں کو بطور احسان دے دی گئی تھی البتّہ بطور مثال لانا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع