30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لانہ خراجی فی اصل الوضع اھ [1]فقدابان ان الوجہ کونھا خراجیۃ فی بد ء الامرلما قدم فی ھذا البیان مستندا للامام الثانی ان ارض العراق والشام ومصر عنویۃ خراجیۃترکت لاھلھا الذین قھر واعلیہا اھ[2]وقال قبلہ قال ابویوسف فی کتاب الخراج ان ترکھا الامام فی ایدی اھلھا الذین قھرواعلیہا فھو حسن فان المسلمین افتتحوا ارض العراق والشام ومصر ولم یقسمواشیأ من ذلك بل وضع عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہ علیھا الخراج ولیس فیھا خمس اھ [3]فھذا ماقال انہ خراجی فی اصل الوضع اماما نحن فیہ اذلم یثبت ذٰلك لا یمکن جعلھا خراجیۃ بالاحتمال وایجابہ علی المسلمین الذین لیسو امن اھلہ بتصریح ذوی الکمال ھذا ماظہرلی واﷲتعالیٰ اعلم بحقیقۃ الحال ثم رأیت فی الفتاوی العزیزیۃ، نقل عن رسالۃ مولٰنا الشیخ الجلیل جلال التھانیسری |
وصولہ کیا جائے گا نہ کہ اُجرت، کیونکہ اصلًایہ زمین خراجی ہے اھ تو اب واضح کیا کہ ابتداءً ان کے خراجی ہونے کی وجہ وہی ہے جس کو پہلے بیان کیا جو امام ثانی کی دلیل ہے کہ عراق ، شام اور مصر کی زمینیں بطورِ غلبہ حاصل ہوئی ہیں اور خراجی ہیں کیونکہ انھیں اس کے ان سابقہ باشندوں کو دے دیا گیا جن سے بطور غلبہ حاصل کی گئی تھی ا ھاوراس سے پہلے لکھا کہ امام ابویوسف نے کتاب الخراج میں فرمایا اگرحاکم نے انھیں لوگوں کے پاس زمین رہنے دی جن سے بطور غلبہ حاصل کی تھی تو یہ بہت اچھا کیا کیونکہ مسلمانوں نے عراق، شام اور مصر کی زمینیں حاصل کیں تو انھیں تقسیم نہ کیا بلکہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے ان زمینوں پر خراج لگایا اور ان میں خمس نہ رکھا گیا اھ یہ وہی ہے جس کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ یہ اصل کے اعتبار سے خراجی ہیں مگر وہ جس میں ہم گفتگو کررہے ہیں جب تك ثابت نہ ہو ان کا احتمال کی بنیاد پر خراجی قرار دینا اور مسلمانوں پر ایسی چیز کا وجوب جس کے وہ بقول صاحبِ کمال کے اہل نہیں، ممکن نہیں، یہ مجھ پر ظاہر ہوا ہے اور حقیقتِ حال سے اﷲتعالٰی زیادہ واقف وآگاہ ہے ،پھر میں نے فتاوٰی عزیزیہ میں دیکھا کہ انہوں نے مولانا شیخ جلال الدین تھانیسری قد س سرہ السری کے رسالہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع