30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فیہ بل الشرط ملك الخارج ولان العشر یجب فی الخراج لا فی الارض فکان ملك الارض و عدمہ سواء کما فی البد ائع ولا یلزم من سقوط الخراج سقوط العشر علی انہ قد ینازع فی سقوط الخراج حیث کانت من ارض الخراج او سقیت بمائہ الخ[1] ملتقطاوبواقی المسائل معروضۃ فی الدرر وغیرہ من الاسفار الغروارض الھند علی سعتھا لا یبعد ان یوجد فیھا تلك الصور کلھا اوجلھا فالمصیر الی التبین فای ارض ثبتت فیھا صورۃ اجری علیہا حکمھا من کونھا خراجیۃ او عشریۃ او لا ولا سبیل الی الجزم بحکم واحد من دون تحقیق وما یتوھم من ان القاسم بن محمد الثقفی افتتحھاعنوۃ سنۃ ثلث وتسعین [2] کما فی الفتح والبنایۃ ولم یعلم قسمتھا بین المسلمین فوجب کیف وان قاسمالم یفتح منھاالا شیأنزر ایسیر ا من احدی نواحیھا مما یلی ملتان والافتتاح عنوۃ لاتستلزم الخراجیۃ کما |
نہ خراجی ، مثلًاجنگل او ر پہاڑ کی زمین، اور یہ بھی تصریح ہے کہ ملکیت اس پر شرط نہیں بلکہ زمین سے حاصل ہوئی چیز کی ملکیت شرط ہے اور اس لیے بھی کہ عشر حاصل شدہ میں لازم ہوتا ہے نہ کہ زمین میں، لہذا زمین کی ملکیت اور عدمِ ملکیت برابر ہے البدائع، سقوط خراج سے سقوط عشر لازم نہیں آتا، علاوہ ا زیں سقوطِ خراج میں بھی اختلاف ہے جبکہ وہ زمین خراجی ہو یا خراجی پانی سے سیراب ہو الخ اختصارًا۔باقی مسائل درمختار اور دیگر کتب میں معروف ہیں ۔ ہندوستان کی زمین نہایت وسیع ہے اس میں مذکورہ تمام صورتوں یا اکثر کا پایا جانا بعید نہیں لہذا یہ حکم لگانے کے لیے کہ یہ عشری ہے یا خراجی، یا نہ عشری ہے نہ خراجی۔ زمین کا تعیّن ضروری ہے کہ کون سی زمین کا معاملہ درپیش ہے ، تحقیق کے بغیر یقینی طور پر ایك حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ا ور جو یہ وہم کیا گیا ہے کہ قاسم بن محمد الثقفی نے ۹۳ھ کو ہندوستان کی زمین بطورِ غلبہ حاصل کی تھی۔جیسا کہ فتح اور بنایہ میں ہے اور یہ معلوم نہیں کہ اس کا خراجی ہو نا ضروری ہے، یہ وہم نہ کافی ہے اور نہ قوی، اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کیونکہ قاسم نے بہت تھوڑا سا حصّہ فتح کیا تھا جو ہندوستان کے ایك گوشہ ملتان کے ساتھ متصل تھا ، اور بطور غلبہ حصول زمین اس کے خراجی ہونے کو مستلزم نہیں جیسا کہ آپ نے جان لیا ہےتو جس طرح |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع