30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واما با جارتھا بقدرالخراج فیکون الماخوذ فی حق الامام خراجا وفی حق الاکرۃ اجرۃ لا غیر لا عشر ولاخراج اھ[1]با ختصار. و قال فی الدر المختار المشتراۃ من بیت المال اذاوقفھا مشتریھا فلا عشر ولاخراج،شرنبلالیۃ معزیا للبحر،وکذا لولم یوقفھا کما ذکرتہ فی شرح الملتقی اھ [2]قال الشامی لم یذکرفی البحر، العشر وانما قال بعد ما حقق ان الخراج ارتفع عن اراضی مصر لعود ھا الی بیت المال بموت ملا کہا فاذااشتراھا انسان من الامام، ملکھا ولا خراج علیھا لان الامام قد اخذالبدل للمسلمین و تمامہ فی التحفۃ المرضیۃ اھ نعم ذکر العشرفی تلك الرسالۃ فقال انہ لایجب ایضا لانہ لم یر فیہ نقلا ۔ قلت ولا یخفی مافیہ لانھم قد صرحوابان فرضیۃ العشرثابتۃ بالکتاب و السنۃ والاجماع والمعقول وبانہ یجب فیمالیس بعشری ولا خراجی کالمفاوز والجبال وبان الملك غیر شرط |
میں سے کسی ایك کے مطابق زراعت کیلئے دے سکتا ہے یا زراعت اور خراج دینے میں مالکوں کے قائم مقام بنادے یا بقدرخراج اجارہ پردے دے اب اس زمین سے حاصل شدہ حاکم کے حق میں خراج اور کرایہ پر لینے والوں پر سوائے اجرت کے کچھ نہ ہوگا، تو ان پر نہ عشر ہے نہ خراج اھ اختصارا۔اسی طرح اس وقت حکم ہے جب وقف نہ کرے جیسا کہ میں نے شرح المنتقی میں ذکر کیا ہے۔شامی کہتے ہیں کہ بحرمیں عشر کا ذکر نہیں، انہوں نے اس کی تحقیق کے بعد کہا کہ اراضی مصر کے مالك فوت ہونے اور ان کے بیت المال کی طرف لوٹنے کی وجہ سے خراج ختم ہوگیا، تو اب کوئی انسان امام سے ایسی زمین خریدتا ہے تو وہ مالك بن جائیگا اور خراج نہیں ہوگا کیونکہ امام نے اس کا بدل مسلمانوں کے لیے حاصل کر لیا ہے ، اس کی تفصیل تحفہ مرضیہ میں ہے اھ ہاں اس رسالہ میں عشر کا ذکر ہے کہ عشر بھی واجب نہیں کیونکہ اس میں نقل نہیں پائی گئی۔میں کہتا ہوُں یہ محلِ نظر ہے کیونکہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ فرضیتِ عشر کتاب اﷲ، سنّت، اجماع اور قیاس سے ثابت ہے، اور اس بات کی بھی تصریح کی ہے کہ عشر اس زمین میں واجب ہے جو نہ عشری ہو اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع