30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فتح۱ومنّ علی اھلھا او نقل الیہ ۲کفار اُخر وما فتح صلحا۳و عشریۃ۴اشترا ھا ذمّی من مسلم و خراجیۃ۵اشتراھا مسلم وما احیاہ ۶ذمی باذن الامام او رضخ لہ۷مطلقا او مسلم۸بقرب الخراجیات، او سقاہ بماء خراجی صرفا علی القولین ومثلہ۹مسئلۃالدارفی المسلم والذمی جمیعا، وقد تکون لا عشریۃ ولا خراجیۃ کما فتحناہ وابقیناہ لنا الیٰ یوم القیمۃ اومات ملا کھا واٰلت لبیت المال علی نزاع فی ھذا قال فی ردالمحتار عن الدرالمنتقی شرح الملتقی، ھذانوع ثالث یعنی لا عشریۃ ولا خراجیۃ من الاراضی تسمی ارض المملکۃ واراضی الحوز و ھو ما مات اربابہ بلا وارث واٰل لبیت المال او فتح عنوۃ ابقی للمسلمین الی یوم القیامۃ وحکمہ علی مافی التاتارخانیۃ انہ یجوز للامام دفعہ للزارع باحد طریقین اما باقامتھم مقام الملاك فی الزراعۃ واعطاء الخراج |
قول کے مطابق (۱۰،۱۱) اور دار کی زمین کو باغ یا زرعی بنانا ، آباد بنانے کی طرح ہےاور بہت سی صورتوں میں زمین خراجی ہوتی ہے(۱)زمین فتح کرلی گئی مگر اس کے باشندوں کو ہی بطورِ حسن سلوك واپس کردی گئی(۲)ایسی زمین کی طرف دوسرے کفار کی منتقلی کی گئی ہو (۳)وُہ زمین بطور صلح فتح کی گئی ہو(۴)زمین عشری تھی مگر کسی ذمّی نے مسلمان سے خرید لی۔(۵)ایسی زمین خراجی جسے کسی مسلمان نے خرید لیا۔ (۶)ایسی زمین جسے اذنِ امام سے کسی ذمی نے آباد کیا ۔(۷)جو زمین ذمّی کو بطور عطیہ دے دی گئی(۸)کسی مسلمان نے اس زمین کو خراجی زمین کے قریب آبا د کیا یا اسے دونوں قولوں کے مطابق محض خراجی پانی سے سیراب کیا(۹)اسی کی مثل مسئلہ دار ہے مسلمان اور ذمی کے حق میں کہ ذمی کیلئے خراجی ہےبعض اوقات زمین نہ شرعی ہوتی ہے اور نہ ہی خراجی، مثلًاہم نے زمین فتح کی اورتا قیامت اسے مسلمانوں کے لیے وقف رکھا یا اس زمین کے مالك فوت ہوگئے اور وُہ زمین بیت المال کی طرف لوٹ آئی، اس میں نزاع ہے۔ ردالمحتار میں درالمنتقی شرح الملتقی سے ہے کہ یہ زمین کی تیسری نوع ہے یعنی نہ وُہ عشری ہے اور نہ وُہ خراجی زمینوں میں سے ہے، ایسی زمینوں کو ارض مملکت اور اراضی حوز کہا جاتا ہے، اور یہ ایسی زمینیں ہیں جن کے مالك بلا وارث فوت ہوجائیں اور وہ زمین بیت المال کی طرف لوٹ آئے یا وہ زمین بطور غلبہ مفتوحہ ہو اور وُہ تا قیامت مسلمانوں کیلئے باقی رکھ دی ہو، تاتارخانیہ کے مطابق اس کا حکم یہ ہے کہ حاکمِ وقت اسے دو۲طریقوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع