30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
انہ قال مامانع الزکوٰۃ بمسلم ومن لم یؤدھا فلا صلوٰۃ لہ۔[1] |
نماز مردود ہے۔ |
فتاوٰی کبرٰی و خزانۃالمفتین کی نقلِ اجماع عبارتِ اطلاق کی تائید کررہی ہے اور اس کا اطلاق اُس اجماع کی، امام ابویوسف نے یہ کتاب مستطاب خلیفہ ہارون کے لیے تصنیف فرمائی ہے جبکہ امام خلافت ہارونی میں قاضی القضاۃ و قاضی الشرق والغرب تھے اُس میں کمال اعلانِ حق کے ساتھ خلیفہ کو وُہ ہدایات فرمائی ہیں جو ایك اعلیٰ درجے کے امام ربّانی کے شایان ِشان تھیں کہ اﷲکے معاملے میں سُلطان و خلیفہ کسی کا خوف و لحاظ نہ کرے اور خلیفہ رحمہ اﷲتعالےٰ نے ان ہدایات کو اسی طرح سنا ہے جو ایك خدا پرست سلطان و امیر المومنین کے لائق ہے کہ نصائحِ ائمہ و علماء اگر چہ بظاہر تلخ ہوں گوشِ قبول سے سُنے اور اُن کے حجور فروتنی کرے،یہ زمانہ امام کا آخر زمانہ تھا، حاضرین مجلس مبارك سیّد نا امام اعظم یا اُس کے بعد کا قریب زمانہ جس میں خلافیاتِ ائمہ ثلٰثہ منقول ہُوئی ہیں، اس سے متقدم تھا، تواس تقدیر پر نقل اجماع کوظاہر سے پھیرنے کی حاجت نہیں، تطبیق یُوں ہوگی کہ امام ابی یوسف رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ نے اس قول سے رجوع فرمایا اور اُن کا آخر قول یہی ٹھہرا جو ان کے استاذ اعظم امام الائمہ اورشاگرد اکبر امام محمد کا ہے رضی اﷲتعالےٰ عنہم اجمعین، او ر ایك امام دین جب ایك قول سے رجوع فرمائے تو اب وہ اس کا قول نہ رہا ، نہ اس پر طعن روا، نہ سیّد نا عبد اﷲبن عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہما پر طعن کیا کہ وُہ ابتدا ء میں جوازِ متعہ مدتوں قائل رہے ہیں یہاں تك کہ عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲتعالیٰ عنہما نے اپنے زمانہ خلافت میں اُن سے فرمایا کہ اپنے ہی اُوپر آز مادیکھئے، اگر متعہ کروتو میں سنگسار کروں، آخر زمانہ میں اس سے رجوع کیا اور فرمایا: اﷲعزوجل نے زوجہ و کنیز شرعی بس ان دو کو حلال فرمایا ہے فکل فرج سواھما حرام [2]ان دو۲ کے سوا جو فرج ہے حرام ہے ،رواہ الترمذی (اسے ترمذی نے روایت کیا۔ت) زید بن ارقم رضی اﷲتعالیٰ عنہ پر طعن کیا جائے کہ وُہ پہلے سُود کی بعض صُورتیں حلال بتا تے ہیں یہاں تك امّ المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ زید کو خبر دے دو کہ اگر وہ اس قول سے باز نہ آئے تو انہوں نے جو حج و جہاد رسول اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے ہمراہ رکاب کِیا اﷲتعالےٰ اسے باطل فرمادے گا۔[3]رواہ الدارقطنی (اسے دار قطنی نے روایت کیا۔ت)
رابعًا: یہ حکایت کسی سند مستند سے ثابت نہیں ،اور بے سند مذکور ہونا طعن کے لیے کیا نفع دے سکتا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع