30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الحیلۃ فی ابطال الشفعۃ بعد ثبوتھا یکرہ لانہ ابطال لحق واجب واما قبل الثبوت فلا باس بہ وھو المختار والحیلۃ فی منع وجوب الزکوٰۃ تکرہ بالاجماع۔[1] |
ثبوت کے بعد ابطال شفعہ کے لیے حیلہ کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ حق واجب کو باطل کرنا ہے لیکن ثبوت سے پہلے حیلہ میں کوئی حرج نہیں اوریہی مختار ہے اور وجوب زکوٰۃ میں رکاوٹ کے لیے حیلہ کرنا بالاجماع مکروہ ہے۔(ت) |
یہاں سے ثابت کہ ہمارے تمام ائمہ کا اس کے عدمِ جواز پر اجماع ہے، حضرت امام ابو یوسف بھی مکروہ رکھتے ہیں ممنوع و ناجائز جانتے ہیں کہ مطلق کراہت کراہتِ تحریم کے لیے ہے خصوصًا نقل اجماع کہ یہاں ہمارے سب ائمہ کا مذہب متحد بتارہی ہے اور شك نہیں کہ مذہبِ امام اعظم و امام محمد اس حیلہ کا ناجائز ہوناہے، غمزالعیون کے لفظ سُن چُکے کہ صاف عدمِ جواز کی تصریح ہے اقول: اگر بتظافر نقولِ خلاف ،بغرض توفیق اس روایت اجماع میں کراہت کو معنی اعم پر حمل کریں،
|
فربما تجئی کذا کقولھم فی الصلٰوۃ کرہ کذا وکذاوارادوابہ المکروھات من القسمین۔ |
تو کبھی یوں بھی آتا ہے جیسا کہ فقہاء کا نماز کے باب میں کہنا کہ فلاں فلاں چیز مکروہ ہے اور مکروہات کی دونوں قسموں کو مراد لیتے ہیں(ت) |
تو حاصل یہ ہوگا کہ اس حیلہ کے مکروہ و نا پسند ہونے پر ہمارے ائمہ کا اجماع ہے، خلاف اس میں ہے کہ امام ابو یوسف مکروہِ تنزیہی فرماتے ہیں اور امام اعظم و امام محمد مکروہِ تحریمی۔ اور فقیر نے بچشمِ خود امام ابی یوسف رضی اﷲ عنہ کی متواتر کتاب مستطاب الخراج میں یہ عبارت شریفہ مطالعہ کی (مطبع میری بولاق مصر صفحہ۴۵):
|
قال ابو یوسف رحمہ اﷲلا یحل لرجل یؤمن باﷲ والیوم الاٰخر منع الصدقۃ و لااخرا جھا من ملکہ الی ملك جماعۃ غیرہ لیفرقھا بذٰلٰك فتبطل الصدقۃ عنھا بان یصیر لکل واحد منھم من الابل والبقر والغنم مالا یجب فیہ الصدقۃ ولایحتال فی ابطال الصدقۃ بوجہ ولا سبب بلغنا عن ابن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ |
یعنی امام ابُو یُوسف فرماتے ہیں کسی شخص کو جو اﷲو قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ حلال نہیں کہ زکوٰۃ نہ دے یا اپنی ملك سے دوسروں کی ملك میں دے دے جس سے ملك متفرق ہوجائے اور زکوٰۃ لازم نہ آئے کہ اب ہر ایك کے پاس نصاب سے کم ہے اور کسی طرح کسی صورت ابطالِ زکوٰۃ کا حیلہ نہ کرے، ہم کو ابن مسعود رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے حدیث پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا زکوٰۃ نہ دینے والامسلمان نہیں رہتا، اور جو زکوٰۃ نہ دے اس کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع