30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ففیھا اربع شیاہ فان وھبھا قبل الحول او باعھا فرارا اواحتیالا لاسقاط الزکوٰۃ فلاشئی علیہ وکذٰلك ان اتلفھا فمات فلاشئی فی مالہ۔[1] |
بعض لوگوں نے کہا جب اُونٹ بیس ۲۰ ہوجائیں تو اسمیں چار بکریاں لازم ہوں گی، اب اگر اسقاطِ زکوٰۃ کیلئے حیلہ کرتے ہُوئے سال گزرنے سے پہلے ان اونٹوں کو ہبہ کردیا تو اب کوئی شئی لازم نہ ہوگی، اسی طرح اگر مالك نے ہلاك کردیا اور مالك فوت ہوگیا تو اس کے مال میں کوئی شئی لازم نہ ہوگی۔(ت) |
کیا ہے کہ کوئی ایسا کرے تو اس پر کُچھ واجب نہ ہوگا۔
ثانیًا: ہمارے کتب مذہب نے اس مسئلہ میں امام ابویُوسف اور امام محمد رحہما اﷲتعالیٰ کا اختلاف نقل کیا اورصرف لکھ دیا کہ فتوٰی امام محمد کے قول پر ہے کہ ایسا فعل جائز نہیں۔ تنویر الابصار و درمختار ودرر وغرروجوہرہ وغیرہا میں ہے:
|
واللفظ للاولین(تکرہ الحیلۃ لاسقاط الشفعۃ بعد ثبوتھا وفاقا)کقولہ للشفیع اشترہ منی ذکرہ البزازی (واماالحیلۃ لدفع ثبوتھا ابتدأ فعند ابی یوسف لاتکرہ وعند محمد تکرہ، ویفتی بقول ابی یوسف فی الشفعۃ)قیدہ فی السراجیۃ بما اذکان الجار غیر محتاج الیہ و استحسنۃ محشی الاشباہ (وبضدہ)وھوالکراھۃ (فی الزکوٰۃ)والحج واٰیۃ السجدۃ جوھرۃ۔ [2] |
پہلی دونوں کتب کی عبارت یہ ہے(ثبوتِ شفعہ کے بعد اسقاط کے لیے حیلہ کرنا بالاتفاق مکروہ ہے)مثلًاشفیع کے لیے یہ کہنا کہ وُہ چیز آپ مجھ سے خریدلیں ۔ اسے بزازی نے ذکر کیا(لیکن ابتدا عدمِ ثبوت کے لیے حیلہ کرنا امام ابویوسف کے نزدیك مکروہ نہیں ۔اورامام محمد کے ہاں مکروہ ہے ۔ شفعہ میں امام ابویوسف کے قول پر فتوٰی ہے)سراجیہ میں اس قید کا اضافہ ہے کہ بشرطیکہ پڑوسی اس کے محتاج نہ ہو محشیِ اشباہ نے اسے پسند کیا ہے اور زکوٰۃ، حج اور آیتِ سجدہ میں (اس کی ضد)بھی کراہت پر فتویٰ ہے۔ جوہرہ(ت) |
ردالمحتار میں شرح دررالبحار سے ہے:ھذا تفصیل حسن [3](یہ تفصیل خوبصورت ہے۔ت) غمزالعیون
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع