30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
احبائك وحسن الادب مع جمیع اولیائك و اعوذبك من غضبك و سخطك و سوء بلائک۔ |
محبت، آپ کے محبوبوں کی محبت اور آپ کے تمام دوستوں کے ساتھ حُسنِ ادب کا سوال کرتاہُوں، اور آپ کے غضب، ناراضگی اور گرفت سے پناہ مانگتا ہُوں(ت) |
اوّلًا:صحیح بخار ی شریف میں اوّل تا آخر کہیں اس حکایت کا پتا نہیں کہ امام ابویوسف اس کے عامل تھے امام اعظم مصدّق ہوئے، امام بخاری نے صرف اس قدر لکھا کہ بعض علماء کے نزدیك اگر کوئی شخص سال تمام سے پہلے مال کو ہلاك کردے یا دے ڈالے یا بیچ کر بدل لے کہ زکوٰۃ واجب نہ ہونے پائے تو اس پر کچھ واجب نہ ہوگا، اور ہلاك کرکے مرجائے تو اس کے مال سے کچھ نہ لیا جائے گا، اور سال تمام سے پہلے اگر زکوٰۃ ادا کردے تو جائز و روا۔ اُن کی عبارت یہ ہے:
|
وقال بعض الناس فی عشرین ومائۃ بعیر حقتان فان اھلکھا متعمدااووھبہا او احتال فیہا فرارا من الزکوٰۃ فلا شئی علیہ۔ [1] |
بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ایك سو بیس۱۲۰ اونٹوں میں دو۲حقہ ہیں اور اگر انھیں عمدًاہلاك کردیا یا انھیں کسی کو ہبہ کردیا یا زکوٰۃسے بھاگنے کے لیے کوئی حیلہ کرلیا تو اب مالك پر زکوٰۃ نہیں ہوگی(ت) |
پھر کہا:
|
وقال بعض الناس فی رجل لہ ابل فخاف ان تجب علیہ الصدقۃ فباعھا بابل مثلہا او بغنم او ببقر او بد راھم فرارا من الصدقۃ بیوم واحتیالا فلا شئی علیہ وھو یقول ان زکی ابلہ قبل ان یحول الحول بیوم او بسنۃ جازت عنہ۔ [2] |
بعض لوگوں نے اس شخص کے بارے میں کہا جس کے پاس اونٹ ہوں وُہ ڈرتا ہے کہ کہیں اس پر صدقہ لازم نہ ہوجائےپس وُہ زکوٰۃ سے فرار اور حیلہ کرتے ہوئے ایك دن پہلے اس کی مثل اونٹوں سے بیچ دیتا ہے یا بکری یا گائے یا دراہم کے عوض بیچ دیتا ہے تو اب اس پر کوئی شئے لازم نہیں، اور وُہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر مالك نے اپنے اونٹ کی زکوٰۃ سال گزرنے سے ایك دن یا سال پہلے زکوٰۃ دے دی تو ادا ہوجائیں گی۔ (ت) |
پھر کہا:
|
وقال بعض الناس اذا بلغت الابل عشرین |
بعض لوگوں نے کہا جب اُونٹ بیس ۲۰ ہوجائیں تو اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع