30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۷۴: از بنارس مسجد بی بی راجی متصل شفا خانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب ۱۳۱۲ھماقو لکم ایھا العلماء (اے علماء کرام! آپ کا کیا ارشاد ہے)دریں مسئلہ کہ زید پیشہ طبابت کرتا ہے اور کُچھ گولیاں اس کے پاس ہیں کہ بحساب فی روپیہ ۴گولیاں علی العموم بیماروں کو دیتا ہے لیکن لاگت اصل چار گولیوں کے چار پیسے ہے، جب مطب میں کوئی غریب مصرفِ زکوٰۃ آجاتا ہے تو ۴گولی مذکور الصدر جس کی قیمت اصلی ۴ پیسے ہے دے کر ایك روپیہ ادائے زکوٰۃ میں شمار کرتا ہے ،اس صورت میں بموجب اس کے خیال کے ایك روپیہ زکوٰۃ میں سے ادا ہوگا یا ایك آنہ جو لاگتِ اصلی ہے؟بینواتو جروا۔
الجواب :
ہر چند شخص کو اختیار ہے کہ اپنے پیشہ کی چیز برضائے مشتری ہزار روپے کے بیچے جبکہ اس میں کذب و فریب و مغالطہ نہ ہو ، مگر زکوٰۃ وغیرہا صدقاتِ واجبہ میں جہاں واجب شئی کی جگہ اس کی غیر کوئی چیز دی جائے تو صرف بلحاظِ قیمت جانبین ہی دی جاسکتی ہے،
|
فی التبیین لوادی من خلاف جنسہ تعتبر القیمۃ با لا جماع اھ[1] وفی التتار خانیۃ عن التحفۃ،الواجب فی الا بل الا نوثۃحتی لا یجوز الذکور الا بطریق القیمۃ اھ [2] وفی محیط الامام السرخسی فی صدقۃ الفطر ان دقیق الحنطۃ والشعیر و سو یقھما مثلھما و الخبز لا یجوز الا با عتبار القیمۃوھوالاصح اھ [3] الکل فی الھندیۃ۔ |
تبیین میں ہے کہ اگرشئی کے غیر جنس سے زکوٰۃ ادا کرنا ہوتو بالاتفاق قیمت کا اعتبار ہوگا اھ اور تاتاخانیہ میں تحفہ سے ہے کہ اونٹوں میں اگر مؤنث لازم ہے تو اب مذکر سے ادائیگی جائز نہیں مگر بطورِ قیمت اھ امام سرخسی کی محیط کے صدقۃ الفطر میں ہے کہ گندم وجَو کاآٹا اور ان کے ستّو ایك دوسرے کی مثل ہیں لیکن روٹی نہیں دی جاسکتی، ہاں قیمت کے اعتبارسے،اور یہی اصح قول ہے اھ، مکمل تفصیل ہندیہ میں ملا حظہ کیجئے۔ (ت) |
اورقیمت وُہ کہ نرخ بازار سے جوحیثیت شئی کی ہو، نہ وہ کہ بائع اور مشتری میں اُن کی تراضی سے قرارپائے کہ وہ ثمن ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع