دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 10 | فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

book_icon
فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

وہ اس کا کامل اجر جو تیرے حوصلہ و کمان سے باہر ہے عطا فرمائے گا، اور کم کیا تو بادشاہ قہار کا مطالبہ جیسا ہزار روپیہ کا ویسا ہی ایك پیسے کا۔ اگر بدیں وجہ کہ مال کثیر اور قرنوں کی زکوٰۃ ہے یہ رقم وافر دیتے ہُوئے نفس کو درد پہنچے گا، تو اول تو یہ ہی خیال کر لیجئے کہ قصور اپنا ہے سال بہ سال دیتے رہتے تو یہ گٹھڑی کیوں بندھ جاتی، پھر خدائے کریم عزّو جل، کی مہربانی دیکھئے، اس نے یہ حکم نہ دیا کہ غیروں ہی کو دیجئے بلکہ اپنوں کو دینے میں دُونا ثواب رکھا ہے، ایك تصدّق کا، ایك صلہ رحم کا۔ تو جو اپنے گھر سے پیارے،دل کے عزیزہوں جیسے بھائی، بھتیجے، بھانجے، انھیں دے دیجئے کہ ان کا دینا چنداں ناگوار نہ ہوگا، بس اتنا لحاظ کر لیجئے کہ نہ وہ غنی ہو نہ غنی باپ زندہ کہ نا بالغ بچّے، نہ اُن سے علاقہ زوجیت یا ولادت ہو یعنی نہ وُہ اپنی اولاد میں نہ آپ انکی اولاد میں۔ پھر اگر رقم ایسی ہی فراواں ہے کہ گویا ہاتھ بالکل خالی ہُوا جاتا ہے تو دئے بغیر تو چھٹکارا نہیں، خدا کے وہ سخت عذاب ہزاروں برس تك جھیلنے بہت دشوار ہیں، دُنیا کی یہ چند سانسیں تو جیسے بنے گزر ہی جائیں گی، تاہم اگر چہ یہ شخص اپنے ان عزیزوں کو بہ نیّتِ زکوٰۃ دے کر قبضہ دلائےپھر وہ ترس کھا کر بغیر اس کے جبر و اکراہ کے اپنی خوشی سے بطور ہبہ جس قدر چاہیں واپس کردیں تو سب کے لیے سراسر فائدہ ہے، اس کے لیے یہ کہ خدا کے عذاب سے چُھوٹا اﷲتعالیٰ کا قرض و فرض ادا ہُوااور مال بھی حلال وپا کیزہ ہو کر واپس ملا، جو رہا وُہ اپنے جگر پاروں کے پاس رہا، ان کے لیے یہ فائدہ ہیں کہ دنیا میں مال ملا عقبے میں اپنے عزیز مسلمان بھائی پر ترس کھانے اور اسے ہبہ کرنے اور اس کے ادائے زکوٰۃ میں مدد دینے سے ثواب پایا، پھر اگر ان پر پُورا اطمینان ہو تو زکوٰۃ سالہا سال حساب لگانے کی بھی حاجت نہ رہے گی، اپنا کل مال بطور تصدّق انھیں دے کر قبضہ دلادے پھر وہ جس قدر چاہیں اسے اپنی طرف سے ہبہ کردیں،کتنی ہی زکوٰۃ اس پر تھی سب ادا ہوگئی اور سب مطلب بر آئے اور فریقین نے ہر قسم کے دینی و دنیوی نفع پائے، مولیٰ عزوجل اپنے کرم سے توفیق عطا فرمائے آمین آمین یا رب العالمین۔ واﷲتعالےٰ اعلم وعلمہ اتم۔

مسئلہ ۷۳:              از شہر ملوك پور مرسلہ جناب سیّدمحمد علی صاحب نائب ناظر فرید پور ۳۰ رمضان المبارك ۱۳۲۹ھ زکوٰۃ کس ماہ میں دینا اولیٰ ہے یا یہ کہ زیور اور روپیہ تو جب پورا سال گزر جائے؟

الجواب :

جب سال تمام ہو فورًا فورًا پُوراادا کرے، ہاں اوّلیّت چاہے تو سال تمام ہونے سے پہلے پیشگی ادا کرے، اس کے لیے بہتر ماہِ مبارك رمضان ہے جس میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ستّر فرضون کے برابر۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن