دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 10 | فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

book_icon
فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

لہ ابطالہ ولا یورث عنہ وعلیہ الفتوی،[1]ملخصا۔

درمختار میں ہے کہ وقف صاحبین کے نزدیك اﷲتعالیٰ کی ملکیت میں چلے جانے کی وجہ سے لازم ہوجاتا ہےلہذا اس کا ابطال جائز نہیں، اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ہوسکتا ہے، اسی پر فتوٰی ہے۔(ت)

مگر با ایں ہمہ جب تك زکوٰۃ پُوری پُوری نہ ادا کرے ان افعال پر امیدِ ثواب و قبول نہیں کہ کسی فعل کا صحیح ہوجانا اور بات ہے اور اس پر ثواب ملنا مقبول بارگاہ ہونا اور بات ہے، مثلًااگر کوئی شخص دکھا وے کے لیے نماز پڑھے نماز صحیح تو ہوگئی فرض اُتر گیا، پر نہ قبول ہوگی نہ ثواب پائے گا، بلکہ الٹا گناہگار ہوگا، یہی حال اس شخص کا ہے ۔ اے عزیز!اب شیطان لعین کہ انسان کا عدومبین ہے بالکل ہلاك کر دینے اور یہ ذرا سا ڈورا جو قصد خیرات کا لگا رہ گیا ہے جس سے فقراء کو تو نفع ہے اسے بھی کاٹ دینے کے لیے یوں فقرہ سُجھائے گا کہ جو خیرات قبول نہیں تو کرنے سے کیا فائدہ، چلو اسے بھی دُور کرو، اور شیطان کی پوری بندگی بجا لاؤ، مگر اﷲعزوجل کو تیری بھلائی اور عذاب شدید سے رہائی منظور ہے، وہ تیرے دل میں ڈالے گاکہ اس حکم شرعی کا جواب یہ نہ تھا جو اس دشمنِ ایمان نے تجھے سکھایا اور رہا سہابالکل ہی متمرد وسرکش بنایا بلکہ تجھے تو فکر کرنے تھی جس کے باعث عذابِ سلطانی  سےبھی نجات ملتی اور آج تك کہ یہ وقف ومسجد و خیرات بھی سب قبول ہوجا نے کی اُمید پڑتی، بھلا غور کرو وُہ بات بہتر کہ بگڑتے ہُوئے کام پھر بن جائیں، اکارت جاتی محنتیں از سرِ نو ثمرہ لائیں یا معاذاﷲیہ بہتر کہ رہی سہی نام کو جو صورتِ بندگی باقی ہے اسے بھی سلام کیجئے اور کھلے ہوئے سرکشوں، اشتہاری باغیوںمیں نام لکھالیجئے، وہ نیك تدبیر یہی ہے کہ زکوٰۃ نہ دینے سے توبہ کیجئے ،آج تك جتنی زکوٰۃ گردن پر ہے فورًا دل کی خوشی کے ساتھ اپنے رب کا حکم ماننے اور اسے راضی کرنے کو ادا کر دیجئے کہ شہنشاہِ بے نیاز کی درگاہ میں باغی غلاموں کی فہرست سے نام کٹ کر فرماں بردار بندوں کے دفتر میں چہرہ لکھا جائے۔ مہر بان مولا جس نے جان عطا کی، اعضادئے، مال دیا، کروڑوں نعمتیں بخشیں، اس کے حضور منہ اُجالا ہونے کی صورت نظر آئے اورمژدہ ہو ،بشارت ہو، نوید ہو، تہنیت ہو کہ ایسا کرتے ہی اب تك جس قدر خیرات دی ہے وقف کیا ہے، مسجد بنائی ہے، ان سب کی بھی مقبولی کی اُمید ہوگی کہ جس جُرم کے باعث یہ قابلِ قبول نہ تھے جب وہ زائل ہوگیا انھیں بھی باذن اﷲتعالیٰ شرفِ قبول حاصل ہوگیا۔ چارہ کار تو یہ ہے آگے ہر شخص اپنی بھلائی بُرائی کا اختیار رکھتا ہے، مدّتِ دراز گزرنے کے باعث اگر زکوٰۃ کا تحقیقی حساب نہ معلوم ہوسکے تو عاقبت پاك کرنے کے لیے بڑی سے بڑی رقم جہاں تك خیال میں آسکے فرض کر لے کہ زیادہ جائے گا تو ضائع نہ جائے گا ،بلکہ تیرے رب مہر بان کے پاس تیری بڑی حاجت کے وقت کے لیے جمع رہے گا


 

 



[1] درمختار         کتاب الوقف         مطبع مجتبائی دہلی۱/۳۷۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن