30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنی خدمت کے لیے بلائے ، یہ وہاں تو حاضر نہ ہُوا اور اس کے غلام کی خدمتگاری میں موجود رہے۔ پھر حضرت امیرالمومنین مولی المسلمین سید نا مولیٰ علی مرتضیٰ کرم اﷲتعالیٰ وجہہ سے اس کی مثال نقل فرمائی کہ جناب ارشاد فرماتے ہیں : ایسے شخص کا حال اس عورت کی طرح ہے جسے حمل رہا جب بچّہ ہونے کے دن قریب آئے اسقاط ہوگیا اب وہ نہ حا ملہ ہے نہ بچّہ والی۔ یعنی جب پُورے دنوں پر اگر اسقاط ہو تو محنت تو پُوری اٹھائی اور نتیجہ خاك نہیں کہ اگر بچہ ہوتا تو ثمرہ خود موجود تھا حمل باقی رہتا تو آگے امید لگی تھی ، اب نہ حمل نہ بچّہ، نہ اُمید نہ ثمرہ اور تکلیف وہی جھیلی جو بچّہ والی کو ہوتی۔ ایسے ہی اس نفل خیرات دینے والے کے پاس روپیہ تو اٹھا مگر جبکہ فرض چھوڑا یہ نفل بھی قبول نہ ہُوا تو خرچ کا خرچ ہوا اور حاصل کچھ نہی۔ اسی کتاب مبارك میں حضور مولیٰ رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے فرمایا ہے کہ:
|
فان اشتغل بالسنن والنوافل قبل الفرائض لم یقبل منہ واھین۔ [1] |
یعنی فرض چھوڑ کر سنت و نفل میں مشغول ہوگا یہ قبول نہ ہوں گے اور خود کیا جائے گا۔ |
یُوں ہی شیخِ محقق مولانا عبدالحق محدّث دہلوی قدس سرہ، نے اس کی شرح میں فرمایا کہ:
|
ترك آنچہ لازم و ضروری ست واہتمام بآنچہ نہ ضروری است از فائدہ عقل و خرد وراست چہ دفع ضرر اہم ست برعاقل از جلب نفع بلکہ بحقیقت نفع دریں صورت منتقی است۔ [2] |
لازم اور ضروری چیز کا ترك اور جو ضروری نہیں اس کاا ہتمام عقل وخرد میں فائدہ سے دُور ہے کیونکہ عاقل کے ہاں حصولِ نفع سے دفعِ ضرر اہم ہے بلکہ اس صورت میں نفع منتفی ہے۔ (ت) |
حضرت شیخ الشیوخ امام شہاب الملّۃ والدّین سُہروردی قدس سرہ العزیز عوارف شریف کے باب الثامن والثلثین میں حضرت خواص رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے نقل فرماتے ہیں:
|
بلغنا ان اﷲلایقبل نافلۃحتی یؤدی فریضۃ یقول اﷲتعالیٰ مثلکم کمثل العبد السوء بداء بالھدایۃ قبل قضاء الدین۔ [3] |
ہمیں خبر پہنچی کہ اﷲعزّوجل کوئی نفل قبول نہیں فرماتا یہاں تك کہ فرض ادا کیا جائے، اﷲتعالیٰ ایسے لوگوں سے فرماتاہے کہاوت تمھاری بد بندہ کی مانند ہے جو قرض ادا کرنے سے پہلے تحفہ پیش کرے۔ |
خود حدیث میں ہے: حضور پُر نور سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع