30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آئے گا۔ سبحان اﷲ! جب ایك کھنڈ ساری کے مطالبہ کا یہ حال ہے تو ملك الملوك احکم الحاکمین جل وعلا کے قرض کا کیا پُوچھنا! لاجرم محمد بن المبارك بن الصباح اپنے جزءِ املا اور عثمان بن ابی شیبہ اپنی سنن اور ابو نعیم حلیۃ الاولیاء اور ھنّا د فوائد اور ابن جریر تہذیب الآثار میں عبد الرحمٰن بن سابط و زید و زبید پسرانِ حارث و مجاہد سے راوی:
|
لما حضرابابکرن الموتُ دعا عمر فقال اتق اﷲیا عمر واعلم ان لہ عملا بالنھار لا یقبلہ باللیل و عملا باللیل لا یقبلہ بالنھار واعلم انہ لایقبل نافلۃ حتی تؤدی الفریضۃ [1]الحدیث۔ ذکرہ العلامۃ ابراھیم بن عبد اﷲالیمنی المدنی الشافعی فی الباب الثالث عشر من کتاب"القول الصواب فی فضل عمر بن الخطاب"وفی الباب التاسع عشر من کتاب"التحقیق فی فضل الصدیق"وھو اول کتب کتابہ"الاکتفا فی فضل الابعۃ الخلفاء"ورواہ الامام الجلیل الجلال السیوطی رحمہ اﷲتعالیٰ فی الجامع الکبیر فقال عن عبدالرحمٰن بن سابط و زید و زبید بن الحارث و مجاہد قالو الما حضر الخ [2] |
یعنی جب خلیفہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم سیّد ناصدیقِ اکبر رضی اﷲتعالیٰ عنہ کی نزع کا وقت ہوا امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲتعالےٰ عنہ کو بلا کر فرمایا: اے عمر !اﷲسے ڈرنا اور جان لو کہ اﷲکے کچھ کام دن میں ہیں کہ انھیں رات میں کرو تو قبول نہ فرمائے گا اور کچھ کام رات میں کہ انھیں دن میں کرو تو مقبول نہ ہوں گے، اور خبردار رہو کہ کوئی نفل قبول نہیں ہوتا جب تك فرض ادا نہ کرلیا جائے الحدیث (اسے علامہ ابراہیم بن عبد اﷲالیمنی المدنی الشافعی نے القول الصواب فی فضل عمر بن الخطاب کے باب نمبر ۱۳ میں اور کتاب التحقیق فی فضل الصدیق کے باب نمبر۱۹میں ذکر کیا ہے،یہ ؛پہلی کتاب ہے، جو انہوں نے خود لکھی ہے جس کا نام"الا کتفاء فی فضل الاربعۃ الخلفاء"ہے'اسے امام جلیل جلال الدین سیوطی رحمہ اﷲتعالیٰ نے جامع الکبیر میں عبد الرحمٰن بن سابط اور زید و زبید بن الحارث اور مجاہد سے روایت کیا کہ جب نزع کا وقت آیا۔ت) |
حضور پُر نور سیّد نا غوث اعظم مولائے اکرم حضرت شیخ محی الملّۃ والدّین ابو محمد عبد القادر جیلانی رضی اﷲتعالٰی عنہ نے اپنی کتاب مستطاب فتوح الغیب شریف میں کیا کیا جگر شگاف مثالیں ایسے شخص کے لیے ارشاد فرمائی ہیں جوفرض چھوڑ کر نفل بجالائے۔ فرماتے ہیں: اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے کسی شخص کو بادشاہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع