30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب :
زکوٰۃ اعظم فروضِ دین واہم ارکانِ اسلام سے ہے ولہذاقرآن عظیم میں بتیس ۳۲جگہ نماز کے ساتھ اس کاذکر فرمایا اور طرح طرح سے بندوں کو اس فرضِ اہم کی طرف بُلایا، صاف فرمادیا کہ زنہار نہ سمجھنا کہ زکوٰۃ دی تو مال میں سے اتنا کم ہوگیا، بلکہ اس سے مال بڑھتا ہے۔
|
یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِؕ[1] |
اﷲہلاك کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو (ت) |
بعض درختوں میں کچھ اجزائے فاسدہ اس قسم کے پیدا ہوجاتے ہیں کہ پیڑ کی اُٹھان کو روك دیتے ہیں، احمق نادان انھیں نہ تراشے گا کہ میرے پیڑ سے اتنا کم ہوجائے گا، پر عاقل ہوشمند تو جانتا ہے کہ ان کے چھاٹنے سے یہ نونہا ل لہلہا کر درخت بنے گا ورنہ یُوں ہی مرجھا کر رہ جائے گا، یہی حساب زکوتی مال کا ہے۔ حدیث میں حضورپُر نور سیّد عالم صلی ا ﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ما خالطت الصدقۃ او مال الزکوٰۃ مالا الا افسدتہ۔[2]رواہ البزار والبیھقی عن ام المومنین الصدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنھا۔ |
زکوٰۃ کا مال جس میں ملا ہوگا اسے تباہ و برباد کردے گا۔ اسے بزار اور بیہقی نے ام المومنین الصدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے روایت کیا ۔ |
دوسری حدیث میں ہے حضورِوالا صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ماتلف مال فی بر ولا بحر الّا بحبس الزکوٰۃ۔ [3] اخرجہ الطبرانی فی الاوسط عن ابی ھریرۃ عن امیر المومنین عمر الفاروق الاعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنھما۔ |
خشکی و تری میں جو مال تلف ہوا ہے وُہ زکوٰۃ نہ دینے ہی سے تلف ہواہے۔ اسے طبرانی نے اوسط میں ابوہریرہ سے امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲتعالیٰ عنہما سے روایت کیا۔ |
تیسری حدیث میں ہے حضوراقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
من ادی زکوٰۃ مالہ فقد اذھب اﷲشرہ [4]۔ اخرجہ ابن خزیمۃ فی صحیحہ والطبرانی |
جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی بیشك اﷲتعالیٰ نے اس مال کاشر اس سے دُور کردیا۔ اسے ابن خزیمہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع