30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹
(زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
مسئلہ ۷۲: از پیلی بھیت مرسلہ عبدالرزاق خاں ذیقعدہ الحرام ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنے روپیہ کی زکوٰۃ نہیں دیتا ہے مگر روپیہ مصرفِ خیر میں صرف کرتا ہے یعنی ہر روز فقراء کو زرِ نقد و غلّہ تقسم کرتا ہے، اور ایك مسجدبنوائی ہے،اورایك گاؤں اس روپیہ سے خرید کر واسطے خیرات کے ہبہ کر دیا ہے اور تاحیات خود زرتوفیر اس کا صرف کرتا رہے مصرف خیر میں۔ اب ایك اور شخص یہ کہتا ہے کہ جس روپیہ کی زکوٰۃ نہیں دی گئی ہے، اس روپیہ سے کسی قسم کی خیرات جائز نہیں ہے ہرروز کی خیرات اور بنانا مسجد کا اور گاؤں کا ہبہ کرنا سب اکارت ہے۔ فلہذا فتوٰی طلب کیا جاتا ہے کہ جس روپیہ کی زکوٰۃ نہیں دی گئی ہے اس روپیہ کو مصرفِ خیر میں صَرف کرنا جیسا کہ بالامذکور ہے درست ہے یا نہیں؟اور اگر درست نہیں تو اس موضع کو ہبہ سے واپس لے کر دوبارہ اس قصد سے ہبہ کرے کہ اس موضع کی توفیر ہو جو ہر سال وصول ہوا کرے گی بالعوض اس زرِ زکوٰۃ کے جو اس کے ذمّہ زمانہ ماضیہ کی دین ہے،صرف ہُوا کرے۔ بینوا توجروا
المکلّف : عبدالرزاق خاں ولد نتھوخاں کھنڈ ساری ساکن پیلی بھیت محلہ اشرف خاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع