دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 10 | فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

book_icon
فتاویہ رضویہ جلد ۱۰

درھما زکاہ عما مضی بانیا علی حول الاصل فلو ملك عرضا للتجارۃ ثم بعد نصف الحول با عہ ثم بعد حول و نصف قبض ثمنہ فقد تم علیہ حولا ن فیزکیھما وقت القبض بلا خلاف اھ [1] اقول: وانما خص الکلام بالقوی لان اصلہ من اموال الزکوٰۃ بخلاف المتوسط فلا حول لاصلہ فلو لم یکن لہ قبلہ نصاب من جنسہ لا یبتدأ الحول الامن حین البیع لانہ بہ صار مال الزکوٰۃ کما نقلہ ھٰھنا عن المحیط ولیس یرید ان فی الوسیط لا یبتدأ الامن وقت البیع وان وجد قبلہ نصاب یجانسہ تحت حولان الحول فانہ خلاف مسئلۃ المستفاد والمتفق علیھا عند علما ئنا المصرح بھا فی جمیع کتب المذھب متونا وشر وحا و فتاوٰی فافھم وتثبت۔ وﷲتعالٰی اعلم۔

اعتبار کرتے ہُوئے گزشتہ عرصہ کی زکوٰۃ دے اگر کوئی شخص تجارت کے لیے سامان کا مالك ہُوا پھر اس نے نصف سال کے بعد سامان بیچ ڈالا اور ڈیڑھ سال کے بعد اس کے ثمن پر قبضہ کیا تو اب اس پر دو سال گزرچکے ہیں تواب بلااختلاف وقت قبض سے اس کی زکوٰۃ دی جائے گی اھاقول: دین کے ساتھ کلام مخصوص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کااصل اموال زکٰوۃ سے ہوتا ہے بخلاف دین متوسط کہ  وہاں اس کے اصل پر سال شرط نہیں ہے  اب اگر اس کی جنس سے پہلے نصاب نہ تھا تو اب سال کی ابتداء بیع کے وقت سے ہی ہوگی کیونکہ اس کی وجہ سے وہ مالِ زکوٰۃ بنا ہے جیسا کہ اس مقام پر محیط سے منقول ہُوا ہے اور یہ مراد نہیں کہ متوسط میں وقتِ بیع سے پہلے ابتداء نہیں ہوسکتی اگر چہ سال پہلے اس کی جنس سے نصاب ہوکیونکہ یہ مسئلہ مستفاد اور اس متفق علیہ مسئلہ کے خلاف ہے جس پر ہمارے علماء نے تمام کتب کے متون،شروحات اور فتاوٰی میں تصریح کی ہے، پس اسے اچھی طرح سمجھ لو اور اس پر قائم رہو۔ واﷲتعالیٰ اعلم(ت)

مسئلہ۶۷:               ۲۲ شوال ۱۳۱۴

جب قرضہ کے ادا کی شکل نہ ہُوئی تو شوہر نے والدہ کو رقعہ لکھ دیا اور وُہ زیور ان سے واپس لے کر فروخت کر ڈالا اور روپیہ تجارت میں لگایا ،بیچنا مجھے منظور نہ تھا مگر مجبور ی تھی کہ روز گار نہ تھا، شوہر کی بیکاری تھی، قرضہ ابھی ادا نہ ہُوا اور وُہ تجارت بھی نقصان ہوکر چھٹ گئی ، مالك تجارت شوہر ہی سمجھے جاتے تھے، اس کی آمد گھر میں سب بال بچّوں کے خرچ میں صرف ہوتی تھی، تجارت چھٹنے کے بعد جو روپیہ بچا وہ سب گھر کے خرچوں میں صرف ہوا، کبھی یہ  ذکر درمیان نہ آیا کہ میرے زیور کا روپیہ ہے کیونکہ معاملہ  ایك سمجھا جاتا تھا اب وُہ روپیہ بھی نہیں اور


 

 



[1] ردالمحتار    باب وجوب الزٰکوۃ فی دین المر صد    مصطفی البابی مصر        ۲/۳۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن