30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اربعین درھما بعد الحول کان علیہ درھم بحکم الحول الماضی قبل القبض لان اجرۃ دارالتجارۃ وعبدالتجارۃ بنزلۃثمن مال التجارۃ فی الصحیح من الروایۃ اھ [1]قلت: فتقدم علی روایۃ انھا من الضعیف اوالوسیط وان مشی علی الاخری فی المحیط وکذلك کون الموروث من المتوسط ھو الرجیح وان جزم فی الھندیۃ عن الزاھدی انہ من الضعیف، فقد مرضھا فی الخانیۃ واخر وھٰکذااشار الٰی تضعیفہ فی الفتح والبحر وفی ردالمحتار عن المنتقی رجل لہ ثلثمائۃ ردھم دین حال علیھا ثلثۃ احوال فقبض مائتین عند ابی حنیفۃ یزکی للسنۃ الاولی خمسۃ وللثانیۃ والثالثۃ اربعۃ اربعۃ من مائۃ وستین ولا شئی ولیہ فی الفضل لانہ دون الاربعین اھ[2]وفی الھندیۃ عن شرح المبسوط للامام السرخی ان الدین مصروف الی المال الذی فی یدہ االخ[3]وفی ردالمحتار اذا کانت لالف ،من دین قوی کبدل عروض تجارۃ فان ابتداء الحول ھو حول الاصل الا من حین البیع ولا من حین القبض فاذا قبض منہ نصابًااواربعین |
بعد چالیس دراہم پر قبضہ ہوا تو اب ایك درہم لازم اس سال کی وجہ سے ہوا جو قبضہ سے پہلے گزرا ہے کیونکہ صحیح روایت مطابق دارتجارت اور عبد تجارت کی اجرت مال تجارت کے ثمن کی مثل ہوتی ہے اھ قلت : پہلے ایك روایت میں گزرا ہے کہ یہ دین ضعیف یامتوسط سے ہے اگر چہ محیط میں دوسری روایت کو اختیار کیا ہے، اسی طرح مال موروثہ بھی متوسط میں سے ہے اور یہی راجح ہے، اگر چہ ہندیہ میں زاہدی سے اس کے ضعیف ہونے پر جزم کیا ہے ، خانیہ میں اسے کمزور قرار دیا ہے ۔ اسی طرح فتح اور بحر میں اس کے ضعف کی طرف اشارہ ہے ۔ ردالمحتار میں منتقی سے ہے کہ کسی شخص کا تین سودراہم دین تھا اور اس پر تین سال گزرے تو اس کا دوسو پر قبضہ ہُوا تو امام ابو حنیفہ کے نزدیك پہلے سال پانچ ، دوسرے و تیسرے میں ایك سوساٹھ میں سے، چارچار درہم زکوٰۃ دے، فضل میں کوئی شئی لازم نہ ہوگی کیونکہ وہ چالیس سے کم ہیں اھ ۔ہندیہ میں امام سرخسی کی شرح مبسوط سے ہے کہ دین اس مال کی طرف لوٹے گا جس پر قبضہ ہو الخ ردالمحتار میں ہے کہ جب دین قوی مثلًا بدل سامان تجارت ، ہزار دراہم ہوں تو سال کی ابتداء حولِ اصل سے ہوگی نہ کہ وقتِ بیع سے اور نہ وقتِ قبضہ سے ، تو جب اس نے دین سے نصاب یا چالیس درہم پر قبضہ کیاتو اس سال کا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع