30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھو بدل غیر مال کمھرو بدل خلع الا اذا کان عندہ مایضم الی الدین الضعیف (الاولی ان یقول ما یضم الدین الضعیف الیہ و الحا صل انہ اذا قبض منہ شیأ وعندہ نصاب یضم المقبوض الی النصاب و یزکیہ بحولہ ولا یشترط لہ حول بعد القبض)[1] اھ ملخصًا۔مزید امن رد المحتار اقول والاولی فی رسم الضعیف مالیس بدل یشتمل مالیس بدلااصلا کالدین الموصی بہ فی ردالمحتار عن المحیط اما الدین الموصٰی بہ فلا یکون نصابًاقبل القبض لان الموصی لہ ملکہ ابتداء من غیر عوض ولا قائم مقام الموصی فی الملك فصار کما لو ملکہ بھبۃ اھ[2] ھذا۔وفی الخانیۃ والفتح والبحر واللفظ لقاضی خان اذا اٰجر دارہ اوعبدہ بمائتی درھم لاتجب الزکوٰۃ مالم یحل الحول بعد القبض فی قول ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ فان کانت الدار و العبد للتجارۃ وقبض |
قبضہ کے وقت زکوٰۃ ہوگی بشرطیکہ اسکے بعد سال گزرے اور دین ضعیف غیر مال کا بدل ہوتا ہے مثلًا مہر، بدل خلع، مگر ایسی صورت میں جب دین ضعیف کے ساتھ مالك کے پاس موجود مال ہوتوملایا جائے(بہتریہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ دین ضعیف کو اس مال کے ساتھ ملایا جائے، حاصل یہ ہے کہ اس میں سے جب کسی شئی پر قبضہ ہوا حالانکہ مالك کے پاس نصاب بھی تھا تو اب مقبوض کو نصاب سے ملا کر سال کی زکوٰۃ دی جائے اس میں قبضہ کے بعد سال کا گزرنا شرط نہیں)اھ تلخیصًا،اضافی عبارت ردالمحتار کی ہے، اقول' ضعیف کی تعریف یُوں کرنا بہتر ہے کہ جو مال کا بدل نہ ہوتا اسے بھی شامل ہوجائے جو اصلًابدل ہی نہیں مثلًاوہ دین جس کی وصیّت کی گئی ہو۔ ردالمحتار میں محیط سے ہے وُہ دین جس کی وصیت کی گئی ہو وہ قبض سے پہلے نصاب نہیں بن سکتا کیونکہ موصی لہ بغیر عوض کے ابتداءً مالك بن رہا ہے اور یہ ملکیت میں وصیت کرنے والے کا قائم مقام بھی نہیں یہ ایسے ہوگا جیسے وہ ہبہ کا مالك بنا ہواھ۔خانیہ،فتح اور بحر میں ہے،اور الفاظ قاضی خاں کے ہیں جب کسی نے دار یا غلام دوسو دراہم کے عوض اجرت پر دیاتوامام ابو حنیفہ ر ضی ا ﷲ تعالٰی عنہ کے قول کے مطابق قبضہ کے بعد سال گزرنے سے پہلے زکوٰۃ لازم نہ ہوگی، اگر دار اور غلام تجارت کے لیے تھے اور سال کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع