30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ضعھا حیث شئت۔ [1] واﷲتعالیٰ اعلم۔ |
ہاں اگر مال والے نے یہ کہا ہو کہ جہاں مناسب سمجھو خرچ کرو، تو اپنے لیے بھی جائز ہے، واﷲتعالیٰ اعلم۔(ت) |
مسئلہ۶۰تا ۶۲: از اندورسیاگنج مرسلہ طاہرمحمد عبدالغنی صاحب ۱۱ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں :
(۱)اگر چند اشخاص دولتمند کئی ہزار روپے زکوٰۃ کا جمع کرکے چند معتبر لوگوں کے سپرد اس غرض سے کریں کہ وہ روپیہ حقدارانِ زکوٰۃ حسبِ ضرورت ان کے دیاجائے۔
(۲)وُہ لوگ جن کی سپرد گی میں مالِ زکوٰۃ دیا گیاہے وہ اس مال کو بڑھانے کی غرض سے تجارت میں لگا سکتے ہیں یا نہیں، یا کسی تاجر کی شرکت میں شامل کرسکتے ہیں یا نہیں ؟
(۳)ایك ایسا شخص کہ جس کے نزدیك اپنا ذاتی مکان ہے اور اس مکان کی سالانہ آمدنی سوروپے تھی مگر بوجہ عیالدار ہونے کے اُس کا خرچ تین سو روپے سالانہ ہے تو ایسے شخص کو زکوٰۃ کے مال سے امداد دینا جائز ہے یا نہیں ؟بینواتوجروا
الجواب:
(۱ و ۲) ان لوگوں پر فرض ہے کہ وُہ روپیہ مستحقینِ زکوٰۃ پر تقسیم کردیں اُس سے تجارت کرنا ان کو حرام ہے جب تك اذنِ جملہ مالکان نہ ہو، اور مالکوں کو بھی جائز نہیں کہ اگر اُن پر زکوٰۃ کا پورا سال ہوچکا ہوتو زکوٰۃ روکیں اور تجارت کے منافع حاصل ہونے پر ملتوی کریں۔ سال تمام پر زکوٰۃ فورًافورًا ادا کرنا واجب ہے، ہاں جس نے پیشگی دیا ہُوا بھی سال تمام اُس پر نہ آیا ہو وہ سال تمام آنے تك ٹھہرے سکتا ہے، پھر اگر یُوں کرے کہ مثلًاہزارروپے سال آئندہ کی زکوٰۃ کی نیت سے تجارت میں لگادئے کہ ان سے جو نفع ہو وہ بھی مع ان ہزار کے فقراء کودے گا تو یہ نہایت محبوب عمل ہے ،
|
وفیہ حدیث من زرع شعیراجرۃ الاجیر وحصل منہ اموالا فلما جا ء الاجیر سلم کلھا الیہ ففرج اﷲبہ منہ وھم اصحاب الرقیم رضی اﷲتعالیٰ عنھم۔ [2] |
اس بارے میں وُہ حدیث ہے کہ جس نے مزدور کی اُجرت جَو کو بویا اور اس سے جواموال حاصل ہوئے جب مزدور آیا تو وُہ تمام اموال اسے دے دئے، تو اﷲتعالیٰ نے انھیں (رضی اﷲتعالیٰ عنہم ) کو راستہ دیا جب وہ غار میں پھنس گئے تھے اور وُہ اصحاب کہف ہیں (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع