30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب :
ستمبر اکتوبر کا اعتبار حرام ہے ،نہ اس کے اوقاتِ آمدنی پر لحاظ، بلکہ سب میں پہلی جس عربی مہینے کی جس تاریخ جس گھنٹے منٹ پر وہ۵۶ روپیہ کا مالك ہُوا اور ختمِ سال تك یعنی وہی عربی مہینہ وہی تاریخ وہی گھنٹہ منٹ دوسرے سال آنے تك اُس کے پاس نصاب باقی رہا وہی مہینہ تاریخ منٹ اس کے لیے زکوٰۃ دینا فرض ہے۔ واﷲتعالیٰ اعلم
مسئلہ ۵۶: از شہر بریلی اسٹیشن ریلوے سٹی آر، کے،آر نعمت حسین دراپور ۱۵ربیع الآخر۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدعرصہ تخمینًابیس سال سے ریلوے کمپنی کے یہاں ملازم ہے اور ریلوے اپنے قاعدے کے موافق بشمول دیگر ملازمان کے زید کی تنخواہ ماہواری سے ایك آنہ چار۴پائی فی روپیہ بطورضمانت مجراکر لیتی ہے اور بعد چھ۶ماہ کے اُس روپے کو کسی دوسری تجارت وغیرہ میں لگا دیتی ہے، درصورت نفع و نقصان کے رسدی کمی بیشی کرکے پھر ششماہی پر رسید دے دیتی ہے ، ابتدا میں ایك روپیہ دو۲ آنہ مجرا ہوتا تھا جُوں جُوں تنخواہ میں ترقی ہوتی گئی اُس میں بھی اضافہ ہوتا گیا، چنانچہ اب مبلغ تین روپے ماہوار مجرا کیا جاتا ہے اور اب اصل تعداد مبلغ پانچسو کی ہوگئی ہے اور کُل تعداد ایك ہزار سے زائد ہوگئی ہے،جس وقت زید ملازمت سے علیحدہ ہوگا اُس وقت اُس کو اور اُس کے ورثا کو وصول ہوگا بشرطیکہ میعاد ملازمت اچھے طریقہ پر ختم ہوجائے اور کوئی قصور وغیرہ واقع نہ ہو،مگر پانچسو روپے جو اصلی ہے اُس میں کسی طرح اندیشہ نہیں ہے سوا اس کے کہ درمیان ملازمت کے روپے کا وصول ہونا نا ممکن ہے جب تك ملازمت سے مستعفی نہ ہو ، ازرُوئے شریعت اُس روپے پر زکوٰۃ دینا فرض ہے یانہیں ؟اگر ہے تو کس وقت سے دی جائے گی؟اصلی تعداد پردی جائے گی یا کُل روپے پر ؟اور نصاب ِ زکوٰۃ کس قدر اور اس پر مقدارِزکوٰۃ کیا ہے؟بینواتوجروا
الجواب :
جب سے وُہ اصلی روپیہ خود یا مع اور زکوٰتی مال کے جوزیدکے پاس ہے، قدر نصاب یعنی ۵۶روپے تك پہنچا اور حوائجِ اصلیہ سے بچ کر اُس پر سال گزرا اُس وقت سے اُس پر زکوٰۃ واجب ہوئی اور سال بسال جدیدہ زکوٰۃ واجب ہوتی رہی، ہاں اگلے سال کی جتنی زکوٰۃ واجب ہُوئی ہے اس سال جمع میں سے اُتنا کم کرلیں گے کہ اُتنا اس پراﷲ عزّوجلّ کادین ہے باقی مع جدید مقدار سال حال پر زکوٰۃ آئے گی ، تیسرے سال کی جمع میں سے دو۲برس گزشتہ کی زکٰوۃ واجب شدہ مجرا کریں گے اور سال حال کا اضافہ شامل کریں گے اس قدر پر زکٰوۃ آئے گی چوتھے سال کی جمع میں سے تین سال کی زکوٰۃ مذکورمجرا کریں گے اور سال حال کا اضافہ شامل کریں گے اس قدر زکوٰۃ آئے گی، چوتھے سال کی جمع میں سے تین سال کی زکوٰۃ مذکور مجرا اور امسال کا اضافہ شامل ہوگا، اخیر تك یونہی کرینگے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع